کرم ایجنسی میں ڈرون حملہ، ایک 'شدت پسند' زخمی

اپ ڈیٹ 22 فروری 2016

پشاور: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی لوئر کرم ایجنسی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملہ کیا گیا.

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک-افغان سرحد کے ساتھ لوئر کرم ایجنسی کے علاقے شہیدانو ڈھنڈ میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون سے متعدد میزائل فائر کیے گئے .

ڈرون حملے کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کے 3 ٹھکانے تباہ جبکہ ایک مشتبہ عسکریت پسند کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں.

ذرائع کے مطابق ڈرون حملے کے نتیجے میں گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں.

زخمی شدت پسند کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی جبکہ واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں کی جاسکی.

کرم ایجنسی پاک-افغان سرحد سے قریب واقع فاٹا کے سات علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں قبائلی قوانین نافذ ہیں۔

فاٹا کی ایجنسی شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں دہشت گردوں کے خلاف 'آپریشن ضرب عضب' کا آغاز کیا گیا تھا، جو تاحال جاری ہے، بعد ازاں خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن 'خیبر ون' اور 'خیبر ٹو' شروع کیا گیا، جو اب اختتام پذیر ہوگئے ہیں.

16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی طرف سے کرم ایجنسی کے بعض علاقوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں اور متعدد شدت پسندوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا.


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں