اصل مجرم کون؟

07 مارچ 2016

ای میل

لکھاری سندھ کے سابق نگراں وزیرِ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی ہیں، اور سندھ ریوینیو بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
لکھاری سندھ کے سابق نگراں وزیرِ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی ہیں، اور سندھ ریوینیو بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

جیسے ہی کوئٹہ میں ثاقبہ نامی طالبہ کو امتحان میں بیٹھنے نہ دیے جانے پر خودکشی کرنے کی خبر بریک ہوئی تو کوئی بھی اس نظام کی بے حسی اور زیادتی پر غم و غصے کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکا جس نے ایک بچی کو ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ نے کالج پرنسپل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جنہوں نے میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ثاقبہ کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بظاہر لڑکی کے گھر والے اور ان کی سہیلیاں عدالت کے باہر احتجاج کر رہیں تھیں۔

میں معزز عدالت کی آئی ایف آر درج کرنے کی ہدایت پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا مگر ہمیں ان سماجی محرکات کا تجزیہ بھی ضرور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے ایسے فیصلے لیے جاتے ہیں۔

ایک طرف تو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہی نظر آتا ہے کہ حکام میں سے اس شخص کو دبوچا جائے جو کہ ظاہری طور پر ناانصافی کا محرک تھا۔

دوسری طرف بچی کے گھرانے کا درد سمجھتے ہوئے اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہوتے ہوئے میں صرف اتنا کہوں گا کہ ایسے واقعات نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہوتے ہیں، جس کے لیے کسی ایک کو قربانی کا بکرا نہ ہی بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی بنایا جانا چاہیے۔

اس معاملے میں اگر پرنسپل اتنی ہی مفاد پرست اور ظالمانہ ذہنیت کی مالک تھیں، تو کیا ثاقبہ کے لیے ان کی زندگی میں ہی ان کے مسئلے کا حل یا ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مداوا نہیں ہونا چاہیے تھا؟

اس میں حیرانگی کی بات نہیں کہ وہ نظام جس کے پاس ثاقبہ کی زندگی میں اس کے مسئلے کا کوئی حل موجود نہیں تھا، اب ایک قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہے۔ ایک کالج کی پرنسپل سے اب ایک پولیس سب انسپیکٹر قتل کی تفتیش کرے گا۔

میڈیا رپورٹس میں موجود حقائق پر یقین کریں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ قتل کرنا پرنسپل کا ارادہ نہیں تھا۔ کیا کوئی بادی النظر میں بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سانحہ متوقع تھا؟ لیکن وہ مسئلہ جس پر بات چیت ہونی چاہیے تھی، مداوا ہونا چاہیے تھا اور اداراتی کارروائی ہونی چاہیے تھی، اب ایسا معاملہ بن چکا ہے جس سے پولیس نمٹے گی۔

اب اگر پرنسپل خودکشی کر لیتی ہیں، تو کیا جج پر اس کا الزام لگایا جائے گا یا وزیر اعلیٰ پر؟ یا یہیں پر کیوں رکیں نواز شریف کو کیوں نہ پکڑا جائے؟ یا وہ بیرون ملک ہوں تو مقامی ایس ایچ او کو گھیرا جائے کیونکہ ان کو پکڑنا اتنا ہی آسان ہے جتنا پرنسپل کو پکڑنا آسان تھا۔

میرا مقصد قطعاً پرنسپل کا دفاع کرنا نہیں — موصول ہونے والی تمام اطلاعات کے مطابق وہ رحمدل نہیں تھیں اور کون جانتا ہے کہ شاید وہ طلبہ کے حقوق کے لیے لڑنے والی باغی ثاقبہ سے بغض رکھتی ہوں۔ مگر بہت سارے سوال ہیں جو پوچھے جاسکتے ہیں۔ کیا ہوگا اگر ان سوالوں کا جواب یہ ہو کہ پرنسپل اپنے نقطہء نظر سے وہی کر رہی تھیں جس کا اختیار انہیں حاصل تھا۔ شاید اپنی چھوٹی سی ریاست میں بیٹھ کر انہوں نے سوچا ہوگا کہ وہ نظم و ضبط کو قائم رکھ رہیں تھیں۔

یہاں جس اہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ انتظامی ناکامی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس بات کو تفتیشی عمل میں بالکل بھی مدِنظر نہیں رکھا جائے گا۔ حادثہ، ایف آئی آر، احتجاج اور پھر دلائل جب عدالت میں پیش کیے جائیں گے تو ان میں شاید انتظامی ناکامی کو بطور مسئلہ ہی نہیں سمجھا جائے گا۔ کیا کسی بے رحم انتظامی فیصلے کو ایف آئی آر کے خلاف دفاعی دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؟ ظاہر ہے بالکل بھی نہیں! جرائم کی تفتیش میں ایسی باتیں اہمیت نہیں رکھتیں۔

ہمارے نظام کا ایک سنگین انتظامی مسئلہ اب پولیس کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جہاں آخرکار مسئلہ کے حل کے لیے تصفیے (شاید مالی تصفیے) پر توجہ دی جائے گی۔

ساری زندگی عدالتوں میں الزام کا دفاع کرتے ہوئے گذارنے کے بجائے فوری اور واحد حل یہ ہوگا کہ پولیس کے دباؤ میں آ کر پرنسپل کچھ مالی معاوضہ دیں اور پولیس کے دباؤ کے توسط سے ہونے والے تصفیہ سے ہی معاملہ ختم ہوگا۔ کیا ہم سنجیدہ انتظامی معاملات سے ایسے ہی نمٹنا چاہتے ہیں؟

ہمارے ملک میں ایک قانونی مفروضہ ہے کہ ایف آئی آر درج کروانا مدعی کا حق ہے اور ہماری عدالتیں تسلسل کے ساتھ ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات دیتی دکھائی دیتی ہیں مگر ایک ایف آئی آر ملزم کی زندگی کے ساتھ کیا کرسکتی ہے، اس کے بارے میں شاید ہی کسی نے سوچا ہو۔ پاکستان میں پولیس کے رحم و کرم پر رہنا مذاق نہیں۔

جب سول نظام ناکام ہوتا ہے تو لوگ تنازعات کو حل کروانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پولیس پر انحصار کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس اپنے اختیارات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ان سول اداروں سے بھی زیادہ کر لیتی ہے جن کی ذمہ داری ایسے تنازعات کا حل کرنا ہوتی ہے۔

یقیناً شہری ایک دوسرے کے خلاف کسی وجہ سے پولیس کے پاس جاتے ہیں؛ پولیس کے نظام میں تمام تر خرابیوں کے باوجود کوئی نہ کوئی ایسا ضرورت ہوتا ہے جو ایک عام شہری کے ساتھ تعلق میں رہتا ہے، اور اس تعلق کی پشت پر فریقِ مخالف کے خلاف تشدد کے استعمال کا امکان موجود رہتا ہے، جس کی وجہ سے فریقِ مخالف ایک نااہل، تاخیر سے بھرپور اور مہنگے سول نظام کے بدلے میں پولیس کا زیادہ نوٹس لیتا ہے۔

تو جس مسئلے میں ہم پھنس چکے ہیں، اسے حل کیسے کیا جائے؟ اس کا حل مکمل طور پر سیاستدانوں کے پاس ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ریاست سے فنڈنگ حاصل کر کے عوام کو ہر سطح پر یہ تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ انتظامیہ کیا ہے اور یہ ان کے لیے کتنی ضروری ہے۔

اگر یہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت جاری رہے، تو انہیں خود کو جلد از جلد تربیت یافتہ مینیجرز میں تبدیل کرنا ہوگا، اور ریاستی اداروں کے انتظامی معاملات کا جائزہ لینا ہوگا۔

کوئٹہ جیسے واقعات ایسے تجزیوں اور ایسی مؤثر انتظامیہ کا نکتہء آغاز ہو سکتے ہیں جو عوام کو تعلیمی و تربیتی خدمات فراہم کرے۔ ایسا نہیں ہوا، تو ایسا خلا پیدا ہوگا جو تیسری قوت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

لکھاری سندھ کے سابق نگراں وزیرِ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی ہیں، اور سندھ ریوینیو بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

[email protected]

یہ مضمون ڈان اخبار میں 7 مارچ 2016 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔