چین میں مارک زکربرگ کی تصویر پر تنازع

شائع March 19, 2016 اپ ڈیٹ March 19, 2016 11:25am

بعض اوقات فیس بک پر پوسٹ کی گئی کوئی ایک تصویر بھی تنازع کھڑا سکتی ہے اور ایسا ہی کچھ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے ساتھ بھی ہوا.

ہوا کچھ یوں کہ مارک زکربرگ، جو ان دنوں چائنا ڈیولپمنٹ فورم کے سلسلے میں چین میں موجود ہیں، نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں وہ کچھ لوگوں کے ہمراہ جاگنگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، تصویر کے ساتھ مارک نے لکھا، 'بیجنگ میں واپسی بہت زبردست ہے، میں نے اپنے دورے کا آغاز تیانانمن اسکوائر پر ایک دوڑ کے ذریعے کیا ہے'. ساتھ ہی انھوں نے اپنے ساتھ شریک افراد اور پوری دنیا کے لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

`

It's great to be back in Beijing! I kicked off my visit with a run through Tiananmen Square, past the Forbidden City and...

Posted by Mark Zuckerberg on Thursday, 17 March 2016
`

لیکن مسئلہ یہ نہیں کہ مارک نے اپنی دوڑ کی تصویر پوسٹ کی، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ چین میں فیس بک پر کچھ پوسٹ نہیں کرسکتے، کیوں کہ چینی حکومت کی جانب سے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل ویب سائٹس پر پابندی عائد ہے.

لیکن مارک تو فیس بک کے بانی ہیں، تو میش ایبل کے مطابق زیادہ امکان یہ ہے کہ چین سے باہر موجود ان کے اکاؤنٹ مینیجر نے یہ تصویر فیس بک پر پوسٹ کی، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھوں نے چین میں بلاک کی گئی فیس بک سروس کا توڑ ورچول پرائیویٹ نیٹ ورکنگ سروس (وی پی این) کے ذریعے نکالا ہو۔

لیکن پھر بھی یہ واقعی دلچسپ لگتا ہے کہ کس طرح فیس بک کے بانی نے چین میں بلاک کی گئی اپنی ہی سروس میں چِیٹنگ کی.

خیر یہ بحث تو اپنی جگہ لیکن کچھ لوگوں نے مذکورہ تصویر پر اپنے کمنٹس میں دوسری بحث کا بھی آغاز کردیا.

کچھ نے بیجنگ میں شدید دھند کو نوٹس کیا اور مارک کو خبردار کیا کہ انھوں نے حفاظتی ماسک کیوں نہیں پہنا.

جبکہ کچھ لوگوں نے تیانانمن اسکوائر کی ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مارک جس جگہ پر آپ آج دوڑ رہے ہیں وہاں 1989 کے مظاہروں میں حکومت کی جانب سے سیکڑوں مظاہرین کا خون بہایا گیا تھا۔

ایک اور صاحب کا کہنا تھا کہ یہ جگہ جمہوریت کے لیے لڑنے والے طالب علموں کے خون سے رنگین ہوئی تھی، لیکن آپ چین میں اپنی ریس انجوائے کریں۔

تاہم کچھ لوگوں نے مارک کے اس اقدام کو سراہا بھی اور کچھ کو تو چین میں گزارے گئے اپنے ماضی کے لمحات بھی یاد آگئے۔

اب آپ اس تصویر کو دیکھ کر کیا سوچتے ہیں، یہ فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026