نمک کا زیادہ استعمال جان لیوا

23 مارچ 2016

ای میل

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے— کریٹیو کامنز فوٹو
یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے— کریٹیو کامنز فوٹو

ہم میں سے بیشتر افراد کھانے کو زیادہ ذائقہ دار بنانے کے لیے نمک کی مقدار میں اضافہ کردیتے ہیں مگر یہ عادت مختلف جان لیوا امراض کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی تحقیق کے مطابق نمک کی روزانہ 6 گرام مقدار کا استعمال صحت کے لیے مناسب ہے تاہم اس سے زیادہ کھانا مختلف امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ باہر کی غذاﺅں میں نمک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے خاص طور پر جنک فوڈز میں تو اس کی مقدار محفوظ قرار دی گئی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔

زیادہ نمک کے استعمال کے نتیجے میں بلڈ پریشر، فالج، امراض قلب، گردوں کے امراض و پتھری، موٹاپے، ہڈیوں کی کمزور، معدے کے کینسر اور پیٹ پھولنے جیسے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایک پرانی تحقیق کے مطابق یہ ذیابیطس کی علامات کو بھی بڑھا کر اس جان لیوا مرض کا شکار بنادیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ نمک قبل از وقت موت کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج اور ہارٹ اٹیک جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اب اس حوالے سے پاکستان میں کیا صورتحال ہے اس بارے میں کہنا مشکل ہے کیونکہ یہ تحقیق برطانوی عوام پر ہوئی تاہم یہ تو واضح ہے کہ یہاں بھی اوسطاً نمک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔