پاناما پیپرز: پاکستانیوں کے متعلق انکشافات

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2016

ای میل

پاناما پیپرز میں دنیا بھر کے امیر و طاقتور افراد کی جانب سے اپنے اثاثہ جات 'آف شور' کمپنیوں کے ذریعے چھپائے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔

تحقیقات گیارہ ملین لیک کی گئی دستاویزات پر مبنی ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی متعدد اہم شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

تحقیقات میں شامل پاکستان کے کچھ نام درج ذیل ہیں:

پاکستانی اخبار دی نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو، ان کے بھتیجے حسن علی جعفری اور سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک تحقیقات میں پیٹرولین انٹرنیشنل نامی کمپنی کے تین شیئرہولڈر بتائے گئے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست جاوید پاشا کے پانچ آف شور کمپنیوں کے رابط پائے گئے۔ پاشا کے علاوہ ان کمپنیوں میں متعدد ہندوستانی نژاد کاروباری شخصیات کے شیئرز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس: نیب سے تحقیقات کا مطالبہ

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے رشتہ دار الیاس مہراج کو تحقیقات میں ایک کمپنی کا اہم شیئر ہولڈر بتیا گیا ہے تاہم وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ایک اور رشتہ دار ثمینہ درانی تین کمپنیوں کی مالک ہیں جن میں سے ایک 2010 میں کھولی گئی تھی۔

لکی مروت کا سیف اللہ خاندان برطانوی ورجن جزائر اور سیشیلز میں ریکارڈ 34 کمپنیوں کا مالک ہے۔

مزید جانیں: پاناما لیکس نواز شریف کی سچائی پر مہر، حکومتی ترجمان

ان کمپنیوں کے مالک سینیٹر عثمان سیف اللہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ہیں۔ ان کمپنیوں کے ہانگ کانگ، سنگاپور، آئرلینڈ میں بینک اکاؤنٹس اور برطانیہ میں زمینیں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عثمان سیف اللہ ٹیکس ریفارم کمیشن کے رکن بھی ہیں جسے حکومت نے آمدنی کی لیکج اور ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے تشکیل دیا ہے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے International Consortium of Investigative Journalists کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی 'آف شور' کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی اس معلوما ت کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

ڈیٹا میں مریم کو برٹش ورجن آئس لینڈ میں موجود نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کا مالک ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایس آئی جے کی جاری دستاویزات میں نیلسن انٹرپرائزز کا پتہ جدہ میں سرور پیلس بتایا گیا۔

جون، 2012 کی ایک دستاویز میں مریم صفدر کو ’ beneficial owner‘ قرار دیا گیا ہے۔

آئی سی آئی جے کے مطابق، حسین اور مریم نے لندن میں اپنی جائیداد گروی رکھتے ہوئے نیسکول اور دوسری کمپنی کیلئے Deutsche Bank Geneva سے 13.8 ملین ڈالرز قرض حاصل کرنے سے متعلق جون، 2007 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

بعد میں جولائی، 2014 میں دونوں کمپنیاں ایک اور ایجنٹ کو منتقل کر دی گئیں۔

اسی طرح حسن نواز شریف کو برٹش ورجن آئس لینڈز میں ہینگون پراپرٹی ہولڈنگز کا ’واحد ڈائریکٹر ‘ ظاہر کیا گیا ہے۔

ہینگون نے اگست، 2007 میں لائبیریا میں واقع کیسکون ہولڈنگز اسٹیبلشمنٹ لمیٹڈ کو 11.2 ملین ڈالرز میں خرید لیا تھا۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔