عبدالقادر پٹیل کی دبئی سے کراچی آمد

ای میل

پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے سابقہ صدر عبدالقادر پٹیل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد کراچی پہنچ گئے — فائل فوٹو/ اے پی پی
پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے سابقہ صدر عبدالقادر پٹیل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد کراچی پہنچ گئے — فائل فوٹو/ اے پی پی

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کراچی ڈویژن کے سابق صدر عبدالقادر پٹیل طویل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد دبئی سے کراچی واپس پہنچ گئے۔

کراچی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے ڈاکٹر عاصم حسین کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کا نام ڈاکٹر عاصم حسین کیس پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں آیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے عدالت سے رجوع کرنے کیلئے کراچی آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: عزیر بلوچ 90روز کیلئے رینجرز کے حوالے

عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم نے ان کا نام کیوں لیا معلوم نہیں تاہم وہ اس کا جواب عدالت میں ضرور دیں گے۔

رینجرز کی تفتیش کے دوران کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے گرفتار سربراہ عزیز جان بلوچ کی جانب سے ان پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ عزیز بلوچ نے پی پی سے تعلق ختم کردیا تھا اور وہ پارٹی سمیت عہدیداروں کو برا بھلا کہتا تھا۔

انھوں ںے اس بات کا اعتراف کیا کہ سندھ رینجرز نے عزیز بلوچ کے لگائے گئے الزامات کے جواب کیلئے انہیں طلب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عزیر بلوچ 13 ماہ سے زیر حراست تھے، اہل خانہ

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے رینجرز کو تحریری جواب میں کہا تھا کہ میں فوری طور پر برطانیہ سے واپس نہیں آسکتا تاہم جلد آکر وہ ان الزامات کا جواب دیں گے۔

عبدالقادر پٹیل کا مزید کہنا تھا کہ وہ دو روز میں رینجرز حکام کے سامنے پیش ہو کر خود پر عزیز بلوچ کے لگائے گئے الزامات کا جواب دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں قادر پٹیل کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے کارکن ان کے استقبال کے لیے کیوں نہیں آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: عزیر بلوچ کی گرفتاری پر اٹھتے سوالات

واضح رہے کہ عبدالقادر پٹیل کی کراچی آمد پر پارٹی کا کوئی بھی کارکن ان کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ موجود نہیں تھا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کے حوالے سے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ وہ اب بھی پارٹی کا حصہ ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ سال عبدالقادر پٹیل کی پارٹی رکنیت معطل کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے 17 سال کی عمر میں جنرل سیکرٹری کے عہدے سے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور آج میری عمر 47 سال ہے، میں نے اپنی زندگی کے 3 ادوار پیپلز پارٹی کو دیئے ہیں'۔

پیپلز پارٹی کے کراچی ڈویژن کے سابق صدر کا مزید کہنا تھا کہ انسان کا دامن اور ضمیر صاف ہو تو اسے کسی بات کا ڈر نہیں۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں اپنی واپسی کو کسی بھی قسم کی ڈیل قرار دینے پر کہا کہ 'میں نے کسی سے ڈیل نہیں کی، میری ڈیل میرے ملک سے ہے'۔

خیال رہے کہ عبدالقادرپٹیل پر گینگ وار ملزمان کا علاج کروانے کا الزام ہے جبکہ ان کے کئی مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔

تاہم انھوں نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت قبل ازگرفتاری کی منظور حاصل کررکھی ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔