ناکام بغاوت: ترکی کا اسرائیل سے اظہار تشکر

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2016

ای میل

اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد سے ترکی میں جشن کا سا سماں ہے—فوٹو / اے پی
اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد سے ترکی میں جشن کا سا سماں ہے—فوٹو / اے پی

انقرہ: گزشتہ ہفتے فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی ناکام کوشش کے دوران جمہوری حکومت کی حمایت پر ترکی نے اسرائیل کا شکریہ ادا کیا۔

اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ ترکی کے ایک سینئر حکومتی عہدے دار نے بغاوت کی کوشش کے دوران اسرائیل کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردگان کی حمایت کے بیان کو سراہا ہے۔

بغاوت کی خبریں سامنے آنے کے بعد اسرائیل نے ترکی میں موجود اپنے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ محتاط رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

مزید پڑھیں:بغاوت کے بعد: 'ترکی میں خطرہ ابھی ٹلا نہیں '

جب ترک حکومت کے وفادار سیکیورٹی اہلکاروں اور عوام نے مل کر بغاوت کی کوشش ناکام بنادی تو اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے ترک صدر طیب اردگان کی حمایت کے حوالے سے بیان جاری ہوا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل ترکی میں جمہوری عمل کا احترام کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کیلئے پر امید ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے ذریعے اسرائیل اور ترکی کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو خراب نہیں کیا جاسکتا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی ترکی اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے 2010 سے منقطع سفارتی تعلقات کی بحالی پر اتفاق کیا ہے جو غزہ کیلئے امداد لے جانے والے ترک بحری جہازوں پر اسرائیلی حملے کے بعد معطل ہوگئے تھے۔

گولن کا امریکا سے مطالبہ

ترکی کے جلا وطن مبلغ فتح اللہ گولن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی درخواست کو مسترد کردے۔

ترک حکومت نے فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے پیچھے فتح اللہ گولن کا ہاتھ قرار دیا ہے تاہم گولن اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف ہوں، فتح اللہ گولن

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گولن نے ترک صدر رجب طیب اردگان کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

گولن نے کہا کہ میں امریکی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ سیاسی انتقام کیلئے کی جانے والی حوالگی کی درخواست کو مسترد کردے۔

واضح رہے کہ فتح اللہ گولن 1999 سے امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں، فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ترک حکومت نے گولن کے خلاف شواہد پر مبنی چار فائلیں امریکا کے حوالے کی ہیں اور گولن کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی صدر براک اوباما نے ترک صدر طیب اردگان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے، وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے گولن کے معاملے پر بات کی۔

وائٹ ہائوس کے ترجمان جوش ایرنسٹ کا کہنا ہے کہ انقرہ کی جانب سے بھیجے گئے شواہد کا جائزہ تین دہائی قبل ہونے والے اس معاہدے کے تحت لیا جارہا ہے جس کے تحت ترکی اور امریکا ایک دوسرے کو ملزمان کی حوالگی کے پابند ہیں۔

گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

فوجی بغاوت کی ناکام کوششوں کے بعد سے بغاوت میں ملوث افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 50 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار یا معطل کیا جاچکا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ترک حکام کی جانب سے کیے جانے والے کریک ڈائون میں اب تک 50 ہزار کے قریب افراد کو گرفتار یا معطل کیا جاچکا ہے جن میں فوجی اہلکار، پولیس اہلکار، ججز، سرکاری افسران اور ٹیچرز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:ناکام بغاوت میں فوج کا بڑا حصہ ملوث نہیں، ترک آرمی

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران فتح اللہ گولن کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

امریکا کے زیر استعمال فوجی اڈے کی بجلی بند

بغاوت کی کوشش کے بعد سے امریکی فوجیوں کے زیر استعمال اینجر لیک فضائی اڈے کی بجلی بند ہے جس کی وجہ سے وہاں موجود امریکی مشن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ فضائی اڈہ امریکی فوج عراق و شام میں شدت پسند تنظیم داعش پر بمباری کیلئے استعمال کررہی ہے جبکہ اسی فضائی اڈے سے ترکی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں شروع ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:فوجی بغاوت: امریکا اور ترکی کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ؟

اس حوالے سے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کی اور امریکا کی جانب اسے اس فضائی اڈے کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ترک کرنسی کی قدر میں کمی

گزشتہ ہفتے ہونے والی فوجی بغاوت کی کوششوں کا اثر ترک معیشت پر بھی پڑا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں ترک کرنسی 'لیرا' کی قدر ستمبر 2015 کے بعد کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایشیا میں ہونے والی تجارت میں ایک ڈالر 3.0630 لیرا کا ہوگیا جبکہ ایک لیرا 34.6 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔