'سی پیک کیلئے چین نے ہمارے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا'

اپ ڈیٹ 04 اگست 2016

ای میل

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے آغاز کے لیے چین نے ان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا۔

اسلام آباد میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے جہاں اپنے 3 سالہ دور میں حکومتی کارکردگی کی تعریف کی، وہیں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) کو دے دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا، 'جب چینی صدر شی جن پنگ پاکستان آئے تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ سی پیک منصوبہ چین کی طرف سے آپ کے لیے ایک تحفہ ہے'، ساتھ ہی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'وہ (چینی صدر) بھی اس گھڑی کے منتظر تھے کہ ہماری حکومت قائم ہو اور ہم یہ کام شروع کریں'۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے دورے کے دوران پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک)، بجلی کی پیداوار اور دیگر منصوبوں پر سرمایہ کاری کے حوالے سے معاہدے کیے تھے، سی پیک منصوبے کو پاکستان کی قسمت بدلنے کے حوالے سے ایک 'گیم چینجر' کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے پل باندھ دیئے اورکہا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو انھیں 3 بڑے چیلنجز کا سامنا تھا۔

  1. معیشت
  2. دہشت گردی
  3. لوڈشیڈنگ

معیشت

وزیراعظم نے کہا کہ آج پوری دنیا اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مذاکرات طے پاگئے ہیں اور اب وقت ہے کہ ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آج کوئی ہمیں ناکام ریاست نہیں کہتا، بلکہ دنیا ہمیں ایک ابھرتی ہوئی معیشت کہہ رہی ہے'۔

وزیراعظم کا کہنا تھا، 'آج پاکستان کے ڈیفالٹ کا نام و نشان تک نہیں ہے'۔

دہشت گردی

خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن خصوصاً ضرب عضب کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور فوج اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2013 سے پہلے کے حالات کو دیکھنا چاہیے اور یہ بھی کہ ملک میں دہشت گردی شروع کس نے کی اور اس کی کیا وجوہات تھیں، ان سب باتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2013 تک کراچی کی صورتحال انتہائی خراب تھی، لیکن آج وہاں کی صورتحال کافی بہتر ہے اور یہ میں نہیں کہتا بلکہ کراچی کے لوگ خود کہتے ہیں۔

لوڈ شیڈنگ

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دور حکومت کے دوران شروع کیے گئے توانائی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ بجلی کے منصوبوں کی وجہ سے 100 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ تھر میں نکلنے والے کوئلے سے بجلی پیدا کی جارہی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ہاں یہ کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا اور ہم سب ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔

پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران وزیراعظم کو جنرل (ر) پرویز مشرف بھی یاد آئے اور انھوں نے کہا کہ مشرف اور ان کے ساتھیوں کو اسمبلی کے کٹہرے میں بلاکر پوچھا جانا چاہیئے کہ انھوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کو بربادی کی طرف کیوں دھکیلا، ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے بلوچستان میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم گوادر کو پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ شہر بنادیں گے جس پر لوگ فخر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کی ترقی و خوشحالی سے غرض ہے، 'ہم دھرنوں کی نہیں بلکہ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں'۔