اے آر وائی کے دفتر پر حملہ، فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

اپ ڈیٹ 22 اگست 2016

ای میل

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مشتعل کارکنان نے ریڈ زون کے قریب ہنگامہ آرائی کی اور نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے دفتر میں گھس کر نعرے بازی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی جب کہ فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

ڈان نیوز کے نمائندے کے مطابق کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کے دوران رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقریروں کے بعد کارکنان مشتعل ہوئے۔

آے آر وائی نیوز کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنان ان کے دفتر میں داخل ہوئے، ملازمین کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ اے آئی وائی پر چلنے والی فوٹیج میں مشتعل افراد کو دفتر میں گھستے اور توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس دوران مشتعل افراد کی بڑی تعداد زینب مارکیٹ کے اطراف موجود تھی جنہیں گورنر ہاؤس کی جانب جانے سے روکنے کیلئے پولیس نے شیلنگ کی۔

پولیس کی شیلنگ پر مظاہرین نے پتھراؤ شروع کیا جس سے کئی افراد زخمی ہوئے جب کہ زنیب مارکیٹ اور اس کے اطراف کے تمام تجارتی مراکز بند ہوگئے۔

اس موقع پر گورنر ہاؤس اور اس کی اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک بری طرح جام ہوگیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

'ایک ہلاک شخص کی ہلاکت کی تصدیق'

جناح اسپتال کی جوائنٹ ایگزیگٹو ڈائریکٹر اور شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک شخص کو مردہ جب کہ پانچ افراد کو زخمی حالت میں ہستپال لایا گیا ہے۔

حملہ کرنے والوں کو ایک ایک سیکنڈ کا حساب دینا ہو گا، بلال اکبر

ڈی جی سندھ رینجرز بلال اکبر نے کہا ہے کہ حملہ کرنے والوں کو ایک ایک سیکنڈ کا حساب دینا ہو گا۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کریں گے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں سے حساب لیں گے اور کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

'عام شہری اے آر وائی کے دفتر کے باہر احتجاج کررہے تھے، واسع جلیل

ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل نے ڈان ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عام شہری اے آر وائی کے دفتر کے باہر احتجاج کررہے تھے جن پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کردی۔

سید علی رضا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹوئٹ کیا کہ ایم کیو ایم گذشتہ 3 سالوں نے پُرامن طریقے سے احتجاج کررہی ہے، آج پارٹی کے بھول ہڑتالی کیمپ کے دوران ماسک پہنے ہوئے کچھ لوگ فوارہ چوک اور اس کے اطراف میں موجود تھے۔

اے آر وائی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے اینکر کاشف عباسی نے کہا کہ حملہ متحدہ کے لوگ تھے اور ان کے قائد نے انھیں اس کا حکم دیا تھا اور صرف 10 منٹ میں سب کچھ ہوگیا۔

کاشف عباسی نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے نجی چینل پر حملے کا حکم خود سنا تھا۔

ترجمان سندھ ہولیس کے مطابق میڈیا دفاتر پر مشتعل افراد کےحملے پتھراوُ ،فائرنگ کے واقعات کا آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساوُتھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

انہوں نے ضلعی پولیس کو ہدایات جاری کیں کہ میڈیا دفاتر پر سیکورٹی مذید بڑھائی جائے اور شہر بھر میں پولیس گشت پیٹرولنگ مذید سخت کرتے ہںوئے شرپسند و قانون شکن عناصر کے ساتھ انتہائی سختی سے نمٹا جائے۔

تصدیق ہوگئی ایم کیو ایم ملک کے خلاف ہے، مصطفیٰ کمال

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج لوگوں کو تصدیق ہوگئی ہے کہ ایم کیو ایم ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق ایم کیو ایم کے سربراہ نے اپنے کارکنوں کو مشتعل کرنے کیلئے کہا کہ کاش ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را خلوصِ دل کے ساتھ میرا (الطاف حسین) ساتھ دیتے تو پاکستان میں ایک بھی فوجی نظر نہیں آئے گا، اور وہ پاکستان کو رینجرز اور فوج سے خالی کرالیں گے۔