ایک انسان زیادہ سے زیادہ کتنی عمر پاسکتا ہے؟

شائع October 9, 2016 اپ ڈیٹ October 9, 2016 12:24pm
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی— کریٹیو کامنز فوٹو
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی— کریٹیو کامنز فوٹو

انسان کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا ممکن ہی نہیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ عمر 115 سال ہی ہوسکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

نیویارک کے البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق انسان کے لیے ہمیشہ زندہ رہنے کے مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں اور وہ ایک خاص عمر تک ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اگر صحت اچھی ہو تو انسان کافی لمبی عمر تک زندہ رہ سکتے ہیں جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آنے والے برسوں میں انسانی عمر ڈیڑھ سو سال تک ہنچ جائے گی۔

تاہم تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سیارے میں زیادہ سے زیادہ عمر 115 سال ہی ہوسکتی ہے۔

محققین نے اس حوالے سے گزشتہ صدی کے انسانی ڈیٹا کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا کہ انسانی عمر زیادہ سے زیادہ 115 سال تک ہی ہوسکتی ہے۔

ان کے بقول بہت کم افراد ہی اس سے آگے جی پاتے ہیں اور عام طور پر ہر انسان کے لیے اتنی عمر تک پہنچنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔

اگرچہ چند صدیوں کے دوران انسانی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے مگر اس کی حد 115 سال تک ہی ہے۔

محققین نے اب تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ عمر پان والے انسانوں کے ڈیٹابیس کا جائزہ لیا اور یہ واضح ہوا کہ 1970 سے 1990 کی دہائی تک زیادہ سے زیادہ عمر 110 سے 115 سال رہی۔

تحقیق کے مطابق کسی فرد کے 125 سال کے ہونے کا امکان دس ہزار میں سے ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے کیونکہ ہمارا جسم ایک خاص عرصے کے بعد ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کے لیے زیادہ عمر تک جینا ممکن نہیں ہوتا۔

محققین کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے عمر بڑھنے لگتی ہے ہمارا ڈین این اے اور دیگر مالیکیولز تباہ ہونے لگتے ہیں اور جسمانی مشینری ختم ہونے لگتی ہے جس کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 2 اپریل 2026
کارٹون : 1 اپریل 2026