دہشت گردوں کو رقوم حاصل کہاں سے ہوتی ہیں جبکہ میں اور آپ انہیں کوئی رقم براہ راست نہیں دیتے؟ — فوٹو پی پی آئی
دہشت گردوں کو رقوم حاصل کہاں سے ہوتی ہیں جبکہ میں اور آپ انہیں کوئی رقم براہ راست نہیں دیتے؟ — فوٹو پی پی آئی

یہ بات سال 2010 کی ہے جس وقت میں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ تھا اور بزنس ڈیسک پر بطور رپورٹر فرائض انجام دے رہا تھا۔ ان دنوں اسٹیٹ بینک کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ ٹیرر فنانسنگ (دہشتگردوں کی مالی معاونت) کے حوالے سے گائیڈلائنز بھی جاری ہوئی تھیں۔

میرا ایک دوست دہلی سوداگران سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی دہلی کالونی، کراچی میں کریانے کی دکان تھی۔ جہاں سے ایک ڈسٹری بیوٹر کسی طرح ان کے بھائی کا شناختی کارڈ لے گیا۔ چند ماہ بعد انہیں گھر پر ایک بینک اسٹیٹمنٹ موصول ہوئی جس میں لاکھوں روپے مالیت کا لین دین درج تھا، جس سے میرے دوست اور اس کے بھائی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے یہ ایک بریکنگ اسٹوری تھی۔ اس معاملے پر تحقیق کرتے کرتے متعلقہ بینک تک پہنچے اور جب بینک منیجر سے انٹرویو کرنا چاہا تو ان صاحب نے انٹرویو دینے سے منع کردیا۔

مگر میرے ساتھی کیمرہ میں عدنان سعید یحییٰ نے میرے اور بینک منیجر کے درمیان ہونے والی گفتگو کمال مہارت سے ریکارڈ کر لی۔ یہ اسٹوری اسٹیٹ بینک کے اینٹی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے قوانین پر عملدرآمد کی قلعی کھول کر رکھ دیتی۔

پڑھیے: فوج کا دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے پر زور

یہ اسٹوری لے کر جب میں دفتر پہنچا تو وہاں اس کو خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ میرے ڈیسک انچارج نے یہ کہہ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دی کہ "بے چارہ بینک مینیجر معافی مانگ رہا ہے، کیوں اس کی نوکری کے پیچھے پڑے ہو، جانے دو۔" اور یوں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد کی مالی معاونت کی ایک بڑی اسٹوری دم توڑ گئی۔

پاکستان میں جوں جوں دہشت گردی بڑھتی رہی ہے، ویسے ویسے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا مسئلہ زیرِ غور لایا جاتا رہا ہے، مگر کسی قسم کے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ البتہ مشرف دورِ حکومت میں دکانوں پر موجود اسلامی تنظیموں کے چندہ باکسز کو ضرور ختم کیا گیا۔ یہ اقدام بھی امریکی حکومت کے کہنے پر اٹھایا گیا تھا کیوں کہ اس وقت یہ متذکرہ تنظیمیں افغانستان میں امریکا کے لیے درد سر بنی ہوئی تھیں۔

سانحہء آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد قومی قیادت نے مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان ترتیب دیا۔ اس کے 20 نکات میں سے چھٹا نکتہ دہشت گردوں اور دہشت گرد نتظیموں کو سرمائے کی فراہمی روکنا تھا، مگر اس پر تب سے لے کر اب تک کوئی خاص عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آیا۔

'کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے' کے مصداق حکومت نے پہلی مرتبہ دہشت گردوں کو حاصل مالی معاونت کی روک تھام کے لیے بڑا قدم اٹھا ہی لیا ہے۔ ڈان اخبار میں 25 ستمبر کو شایع ہونے والی خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت نے فورتھ شیڈول میں موجود دو ہزار سے زائد افراد کے بینک اکاؤنٹس بند کرنے کے احکامات اسٹیٹ بینک کو ارسال کردیے ہیں۔

اس حوالے سے نیکٹا نے ان مشکوک افراد کے شناختی کارڈ نمبرز بھی بینکوں کو ارسال کیے ہیں۔ اس حکم پر عملدرآمد کی حتمی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے اور بینکس اپنے ریکارڈز کی چھان بین کر رہے ہیں کہ ان کے پاس مشکوک افراد کے اکاؤنٹس موجود ہیں یا نہیں۔

اس حوالے سے جب میں نے ایک سینیئر بینکار، جو کہ ایسے اکاؤنٹس کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے ذمہ دار ہیں، سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست نامکمل ہے اور اس فہرست میں بلوچستان کے علیحدگی پسند اور کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کے نام موجود نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ جو شناختی کارڈ نمبرز دیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر کے نام پر کوئی بینک اکاؤنٹ موجود نہیں، مگر فہرست میں شامل افراد کے اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس ملے ہیں۔ وفاقی حکومت کی فہرست میں اکثر شناختی کارڈ نمبرز بھی غلط ہیں جبکہ فہرست میں بعض عام شہریوں کے شناختی کارڈ نمبر بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔

سینیئر بینکار کا کہنا تھا کہ "فہرست میں نقائص کی وجہ سے اکاؤنٹس منجمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، بینک اکاؤنٹ منجمد کیے جانے کی رپورٹ جلد اسٹیٹ بینک کو روانہ کریں گے۔"

یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ حکومت اور مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کو بہترین انداز میں سرانجام دیا ہے، جس سے ملک بھر میں امن و امان کی فضا بحال ہوئی ہے اور لوگوں میں خوف کسی قدر کم ہوا ہے۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب تک دہشت گردوں کو مالی وسائل کی فراہمی کا راستہ ختم نہیں کیا جائے گا، تب تک پائیدار اور مستحکم امن کا قیام مشکل ہوگا۔

ایک ضروری سوال یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کو رقوم حاصل کہاں سے ہوتی ہیں جبکہ میں اور آپ انہیں کوئی رقم براہ راست نہیں دیتے؟ اس کا جواب سادہ سا بھی ہے اور انتہائی پیچیدہ بھی۔

دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی سے متعلق حکومتی اقدامات پر صرف اپنی رائے کو شمار کرنے کے بجائے دو ماہرین کی رائے کو اپنی تحریر کا حصہ بناؤں گا تاکہ ٹھوس تجاویز دینا ممکن ہو سکے۔

سابق فوجی افسر اور نجی سکیورٹی فرم کے مالک کرنل ریٹائرڈ اکرام سہگل کے مطابق اگر ایک خودکش جیکٹ بنتی ہے تو اس میں استعمال ہونے والی جیکٹ اور دھماکہ خیز مواد مفت میں تو نہیں ملتا۔

اس کے لیے یہ تمام تر چیزیں زیرِ زمین موجود منظم جرائم کے نیٹ ورک سے فراہم کی جاتی ہیں، دہشت گردوں اور منظم جرائم کا آپسی گٹھ جوڑ موجود ہے۔

اکرام سہگل کہتے ہیں کہ جب تک منظم جرائم کرنے والوں کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی اور کرپشن کو روکا نہیں جائے گا، اس وقت تک دہشتگردوں کو ملنے والی مالی امداد کا مکمل خاتمہ ناممکن ہے۔

وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اسٹیٹ بینک نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور کالا دھن سفید کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں، مگر دہشت گردوں کو فنڈز کی فراہمی مکمل طور پر بند نہیں کی جاسکی۔

پڑھیے: قومی ایکشن پلان پر چند سوالات

دوسری جانب معروف بینکار اور معاشی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے مطابق پاکستان میں 20 ہزار ارب روپے سے زائد کالا دھن موجود ہے۔ یہ کالا دھن ہی دہشت گردوں کو مالی وسائل فراہم کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ نقدی لین دین کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے بینکاری نظام کے ذریعے لین دین کو بڑھایا جائے۔ 40,000 روپے کا پرائز بانڈ اور 5000 روپے کا کرنسی نوٹ عام آدمی کے لیے سہولت بننے کے بجائے کالے دھن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں مددگار اور معاون ثابت ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صدیقی کے مطابق بڑے کرنسی نوٹوں اور بڑی مالیت کے پرائز بانڈز ختم کیے جانے چاہیئں کیوں کہ ان کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ اسمگلنگ، انڈرانوائسنگ یعنی ٹیکس بچانے کی خاطر چیز کی قیمت کم بتانا، سے بھی پیدا ہونے والا کالا دھن انہی دہشت گردوں کو فراہم ہو رہا ہے۔

بینکوں میں محض مشکوک افراد کے اکاؤنٹس بند کرنے سے دہشت گرد کی مالی امداد نہیں رکے گی۔ اس مقصد کے لیے ریاست کو اقتصادیات کے ماہرین کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ٹھوس، طویل المدتی اقدامات کے ذریعے ہی دہشتگردوں کی مالی رسد کاٹی جا سکتی ہے، نہ کہ صرف 2000 اکاؤنٹس بند کر کے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کب اس بات کو سمجھ پاتی ہے اور کب اس حوالے سے کوئی فیصلہ آتا ہے۔ البتہ جس سست روی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، لگتا ہے کہ اس پورے عمل کو مکمل ہوتے ہوتے مزید ایک دہائی نہ لگ جائے۔