ایدھی کا مشن جاری رکھنے کے لیے تعاون کی اپیل
کراچی: ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار کی ایدھی کی وفات کے بعد اس فلاحی ادارے کے عطیات میں تیزی سے کمی ہورہی ہے جبکہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کہ وجہ سے دکھی انسانیت کی خدمت اور امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
میڈیکل کانفرنس سے خطاب میں عبدالستار کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے کہا کہ ’فنڈز میں کمی کے باوجود عبدالستار ایدھی کا شروع کیا گیا مشن جاری نہیں رکے گا‘۔
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پی آئی ایم اے) کی جانب سے منعقدہ عبدالستار ایدھی سے منسوب میڈیکل کانفرنس میں شریک فیصل ایدھی نے کہا کہ ’میرے والد کے انتقال کے بعد عطیات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، ہمیں مالی اور جذباتی طور پر مشکلات کا سامنا ہے، میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ انسانیت کی خدمت کا ایدھی کا مشن آگے لے کر چلنے میں ہماری مدد کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: عبدالستار ایدھی کا 88 سال کی عمر میں انتقال
فیصل ایدھی نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن ایمبولینس ڈرائیورز، میڈیکل ٹیکنیشنز اور پیرامیڈیکس کی تربیت کے لیے کراچی میں آئندہ ماہ پہلا اسکول کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس موقع پر سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کے پروفیسر ادیب الحسن رضوی نے کہا کہ مرحوم ایدھی نے اپنی آنکھیں عطیہ کرکے مرنے کے بعد بھی دکھی انسانیت کی خدمت کی جس کی وجہ سے دو افراد کی آنکھوں کو روشنی مل سکی۔
پروفیسر ادیب رضوی نے کہا کہ ’ایدھی صاحب ایسی شخصیت تھے جنہوں نے بکھری ہوئی قوم کو متحد کیا اور یہ ثابت کیا کہ انسانیت کی خدمت ہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد تھا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس ایمبولینسز کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے جو صرف پاکستان میں ہی دستیاب ہے۔
یہ خبر 27 نومبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوگئی











لائیو ٹی وی