کامی سڈ: پاکستان کی پہلی مخنث ماڈل

اپ ڈیٹ 24 مئ 2019

کئی افراد کامی سڈ کو پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کی حیثیت سے جانتے ہیں،تاہم اب اس سماجی کارکن نے فیشن کی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وقار جے خان کے فوٹو شوٹ میں کامی سڈ نے نفیس اور پراعتماد انداز میں اپنے آپ کو پیش کیا اور یوں وہ پاکستان کی پہلی مخنث ماڈل بن گئیں۔

کامی کہتی ہیں کہ جب فوٹوگرافر اور ان کے دوست وقار نے انہیں شوٹ کی پیش کش کی تو وہ اس کے لیے مکمل تیار تھیں تاہم ایک غیریقینی کیفیت کا سامنا تھا کہ وہ ایسا کیسے کریں گی۔

کامی کے مطابق، وہ جانتی ہیں یہ نہ صرف ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کو سامنے لانے کا ایک بہترین موقع ہوگا بلکہ ماڈلنگ کے ذریعے وہ معاشرے میں اپنی برادری کو پروقار انداز میں پیش کرسکتی ہیں۔

اپنے پہلے ہی فوٹوشوٹ میں کامی نے اپنے آپ کو ثابت کرنے کی بہترین کوشش کی
اپنے پہلے ہی فوٹوشوٹ میں کامی نے اپنے آپ کو ثابت کرنے کی بہترین کوشش کی

خواجہ سرا ماڈل کے مطابق، اگر انہیں مختاراں مائی کی طرح فیشن شوٹس اور فیشن ویکس میں نمائندگی کا مزید موقع ملا تو وہ ضرور کام کریں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کی کمیونٹی طویل عرصے تک پسِ پردہ رہ چکی، خواجہ سرا کبھی میک اپ کرکے گزارا کرتے رہے تو کبھی دوسرے کام، لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سامنے آئیں اورلوگوں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں۔

یہ مہم خواجہ سراؤں کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور انہیں معاشرے کا ایک کارآمد طبقہ بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

کامی کے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ بننے کے فیصلے پر ان کے گھر والے کچھ خاص خوش نہیں لیکن کامی کا خیال ہے کہ ان کا ردعمل خاصا فطری ہے۔

کامی معاشرے کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں، ان کے خیال سے بہت سے لوگ ان کی جنس کو صحیح انداز سے نہیں سمجھتے، اسی لیے کامی چاہتی ہیں کہ وہ لوگوں کو مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ اپنی جنس سے بھی آگاہ کراسکیں۔

ماڈل بننا کامی کی خواہش نہیں تھا لیکن اپنی کمیونٹی کو سامنے لانے کے لیے اس کی ضرورت ہے
ماڈل بننا کامی کی خواہش نہیں تھا لیکن اپنی کمیونٹی کو سامنے لانے کے لیے اس کی ضرورت ہے

خاندان کی حمایت حاصل نہ ہونے کےباوجود کامی کی خواہش ہے کہ لوگ انہیں کمرشل فیشن ورلڈ میں دیکھ سکیں اور آگاہی حاصل کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگ مجھے کارکن کے طور پر جانتے ہیں لیکن ماڈل بن کر وہ زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں گی۔

کامی کا ماننا ہے کہ خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیے جانے والے ہر تجربے سے انسان طاقت، حوصلہ اور اعتماد حاصل کرتا ہے، انسان خود کو یہ کہنے کے قابل ہوپاتا ہے کہ میں یہ کر گزرا اور آگے بھی جو ہوگا میں اس کا سامنا کرلوں گا۔

تبصرے (1) بند ہیں

Neelofer aman Nov 28, 2016 07:42pm
V best of luck! Wish you success