کراچی: سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر ادیب رضوی کی جانب سے حوصلہ افزائی کے بعد جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل سینٹر(جے پی ایم سی) کے ڈاکٹرز نے اپنے اعضاء عطیہ کر دیئے۔

جے پی ایم سی میں اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے منعقد تقریب میں ڈاکٹر ادیب رضوی کے خطاب سے متاثر ہسپتال کے شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی سمیت ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملے کے کئی لوگوں نے اعضاء عطیہ کرنے کے لیے دستخط کیے۔

اعضاء عطیہ کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سیمی جمالی نے ڈان کو بتایا کہ ایک زندگی بچانے جیسا اور کوئی عظیم کام نہیں، اس لیے میں نے زندگی بچانے کے لیے اعضاء کا عطیہ کرنے کے لیے دستخط کیے ۔

یہ بھی پڑھیں: ’کئی مسلمان اعضاء کی زکوٰۃ کو خلافِ اسلام سمجھتے ہیں‘

جے پی ایم سی کے محکمہ ایڈمنسٹریشن کے سربراہ اور اعضاء کا عطیہ کرنے کی تقریب منعقد کروانے والے ڈاکٹر رضا رضوی کا کہنا تھا کہ پروگرام کے دوران 100 سے زیادہ لوگوں میں فارم تقسیم کیے گئے، جن میں سے 37 افراد نے فارمز پر اعضاء عطیہ کرنے کے دستخط کرکے واپس کردئیے ، جب کہ جلد ہی پیرا میڈیکل اسٹاف کے لوگ بھی فارم پر دستخط کرکے واپس کردیں گے۔

سیمینار سے خطاب کے دوران ڈاکٹر رضوی نے قرآن شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت بچائی، ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیم دینے والے مدارس اعضاء عطیہ کرنے کی تعلیم دیں۔

مزید پڑھیں: اعضاء کی پیوندکاری کی تائید سے مولانا شیرانی کا گریز

ڈاکٹر رضا رضوی نے عبدالستار ایدھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھیں عطیہ کیں ، جس وجہ سے آج دو افراد دنیا کو دیکھ رہے ہیں، ان کے مطابق پاکستان میں ہزاروں افراد اعضاء کے عطیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں، مگر اکثر لوگوں کا انتظار بیکار ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستانی سماج ذہنیت تبدیل نہیں کر سکا، یہاں کے لوگ خوف زدہ ہیں اور اپنی لاش بھی عطیہ نہیں کرتے۔