پارا چنار کی سبزی منڈی میں دھماکا،25 جاں بحق

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2017

ای میل

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی —فوٹو / اے ایف پی
دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی —فوٹو / اے ایف پی

کرم ایجنسی: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی کرم ایجنسی کے علاقے پارا چنار میں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔

دھماکے کے نتیجے میں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا—۔فوٹو/اے ایف پی
دھماکے کے نتیجے میں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا—۔فوٹو/اے ایف پی

اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ شاہد علی کے مطابق پارا چنار کی عید گاہ مارکیٹ میں واقع سبزی منڈی میں دھماکا اُس وقت ہوا، جب وہاں لوگ کافی تعداد میں خریداری میں مصروف تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دھماکا خیز مواد سبزی کے کریٹ میں رکھا گیا تھا، جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔

دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار اور سیکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا کام شروع کردیا گیا۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے کے بعد فوج اور ایف سی کی کوئیک ریسپانس فورس بھی جائے وقوع پر پہنچی۔

دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار اور سیکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں—۔فوٹو/ اے ایف پی
دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار اور سیکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں—۔فوٹو/ اے ایف پی

دھماکے کے زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب میڈیا کو موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ میسج میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے شہریار محسود گروپ کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی۔

تاہم واضح رہے کہ شہریار محسود گروپ کی جانب سے ایسا کوئی دعویٰ اب تک سامنے نہیں آسکا۔

اس سے قبل دسمبر 2015 میں بھی پارا چنار کے عید گاہ لنڈا بازار میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی تھی۔

مزید پڑھیں:پارا چنار دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہو گئی

واضح رہے کہ پارا چنار پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے کرم ایجنسی کا انتظامی ہیڈ کوارٹر ہے، یہ زیادہ آبادی والا علاقہ نہیں ہے، اس علاقے کی آبادی 40 ہزار کے قریب ہے جس میں مختلف قبائل، نسل اور عقائد کے لوگ شامل ہیں، یہ علاقہ 1895 میں انگریزوں نے تعمیر کیا تھا۔

2007ء میں اس علاقے ہونے والی فرقہ ورانہ جھڑپوں کے بعد فوج اور نیم فوجی دستوں نے یہاں کی شاہراہوں پر چوکیاں قائم کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:کرم ایجنسی: بارودی سرنگ کا دھماکا، آٹھ افراد ہلاک

اگرچہ یہاں فوج اور مقامی قبائلی رضا کاروں پر مشتمل چوکیاں قائم ہیں لیکن کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں دشوار گزار پہاڑی راستے ہیں جہاں سے عسکریت پسند دوسرے علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان کی قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب-عضب اور خیبرایجنسی میں آپریشن خیبر (ون اور ٹو) کے بعد عسکریت پسند ردعمل کے طور پر دوسرے علاقوں میں حملوں کی کوشش کر رہے ہیں۔