اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے 17 سال قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خلاف منی لانڈرنگ کے حوالے سے دیا گیا بیان حلفی اب بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکمران جماعت کے رہنماؤں کی پریس کانفرنسز میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

پاناما کیس پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کا بیان حلفی ہی وزیراعظم کے آف شور اثاثوں کا 'اصل منی ٹریل' ہے جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں دباؤ میں دیئے گئے اسحٰق ڈار کے اس بیان کی صداقت کو چیلنج کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسحٰق ڈار نے 25 اپریل 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اپنے ہاتھ سے لکھ کر جمع کرائے گئے بیان میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ شریف برادران نے 90 کی دہائی میں منی لانڈرنگ چھپانے کے لیے حدیبیہ پیپر ملز کو استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس: 'ن لیگ منی ٹریل دی چکی ہے'

عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے اعتراف کے ساتھ اسحٰق ڈار نے اس بات کو بھی تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے منی لانڈرنگ میں نوازشریف کی مدد کی اور لندن میں موجود وزیراعظم کے فلیٹس کا اصل منی ٹریل یہی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے تفتیش کے دوران اسحٰق ڈار نے یہ بیان دیا اور جب انہوں نے نیب کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تو نیب نے اس اپیل کو چیلنج نہیں کیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ نیب کے چیئرمین کو وزیراعظم نواز شریف نے مقرر کیا تھا۔

عمران خان کے مطابق سپریم کورٹ نے نیب کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بارے میں دستاویزی ثبوت پیش کریں کہ انہوں نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کیوں نہیں دائر کی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی تمام آف شور سرمایہ کاری کا بوجھ میاں شریف پر ڈال کر اپنے ہی والد کو 'منی لانڈرر' بنادیا۔

عمران خان نے سوال کیا کہ اگر شریف خاندان کی گلف اسٹیل مل 15 ملین درہم کے خسارے میں چل رہی تھی تو وہ 12 ارب درہم میں کیسے فروخت ہوگئی؟

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز اور وزیراعظم کے مشیر مصدق ملک نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں صحافیوں کے سامنے دعویٰ کیا کہ اسحٰق ڈار کا اعترافی بیان دباؤ میں لیا گیا تھا۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ 'جب کسی شخص کو اٹک قلعے کے تہہ خانے میں لے جایا جاتا ہے تو پھر وہ وہی کہتا ہے جو اس سے کہنے کو کہا جائے'۔

وزیراعظم کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اسحٰق ڈار کے کیس پر تین مرتبہ ٹرائل ہوچکا ہے اور فیصلہ ہر مرتبہ ان کے حق میں آیا، 'دہرے جیوپرڈی قانون کے تحت مخصوص معاملے پر کسی شخص کا ٹرائل ایک سے زائد مرتبہ نہیں کیا جاسکتا'۔


یہ خبر 31 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی