ٹوٹی کمر کا فسانہ

اپ ڈیٹ فروری 16, 2017 01:44pm

Email


Your Name:


Recipient Email:


ماضی کے کئی دہشتگرد حملوں کی طرح پیر کو لاہور میں ہونے والے خودکش بم حملے کے بارے میں بھی پیشگی اطلاع موجود تھی، مگر پھر بھی حملے کو روکا نہ جا سکا۔

انتباہ کے باوجود بھی خود کش بمبار اپنے ہدف تک پہنچ گیا جس کے نتیجے میں دو سینیئر پولیس افسران سمیت ایک درجن سے زائد افراد مارے گئے۔ واقعہ صوبائی دارالحکومت کے مرکز میں ہوا — یہ واقعہ دہشتگرد نیٹ ورکس کے سزا سے محفوظ ہونے کی ایک ڈراؤنی یاد دہانی ہے۔

ضروری بات یہ نہیں کہ سرحد پار افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں سے کارروائی کرنے والی کون سی انتہاپسند تنظیم اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے؛ بلکہ اہم بات یہ ہے کہ اس حملے کو ملک کے اندر کام کرنے والے نیٹ ورکس کی جانب سے سہولت فراہم کی گئی تھی۔ لاہور حملہ انٹیلیجینس وارننگ پر بروقت اقدامات اٹھانے اور اس سانحے کو روکنے میں ہماری ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب ہم دنیا میں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشتگرد دم دبا کر بھاگ رہے ہیں اور اب ہمارے بڑے شہر بین الاقوامی کھیلوں اور ثقافتی تقاریب کے انعقاد کے لیے محفوظ ہیں۔

بلاشبہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں دہشت گردی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے، مگر حالیہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں کے لیے دوبارہ منظم ہونا اور بڑے حملے کرنا کس قدر آسان ہے جبکہ ریاست اب بھی بلاامتیاز عسکریت پسندی کے بڑے ذرائع کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتی ہے۔

ایسے حالات کے پیش نظر دہشتگردی کو ایک بار پھر اپنا بدصورت سر اٹھاتے دیکھنا کوئی حیرانی بات نہیں ہے۔ چیئرنگ کراس بم حملہ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے نئے ناموں کے ساتھ فعال کالعدم عسکریت پسند اور فرقہ وارانہ گروپس کے خلاف مؤثر انداز میں کارروائی کرنے میں ریاستی اداروں، خصوصی طور پر وزارت داخلہ کی ناکامی کے الزام کو درست ثابت کرتا ہے۔ گزشتہ اگست کو کوئٹہ کے ہسپتال میں ہونے والے بم حملے، جس کے نتیجے میں بلوچستان میں سینئر وکلا کی تقریباً ایک پوری نسل کا خاتمہ ہو گیا تھا، پر جسٹس عیسیٰ کمیشن رپورٹ دسمبر میں شائع ہوئی تھی۔

ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے وزیرِ داخلہ نے تند تیز رویے کے ساتھ الزامات مسترد کر دیے۔ لاہور حملے کی تحقیقات کے لیے کوئی نیا کمیشن درکار نہیں بلکہ ضرورت ہے تو اس بات کی، کہ جسٹس عیسیٰ کی رپورٹ کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے اور اس کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے۔

اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خطرے سے انکاری ہیں مگر پنجاب ایک بڑے خطرے کے درمیان موجود ہے کہ جہاں صورتحال کبھی بھی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔ یہ صوبہ پرتشدد انتہاپسندی کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں کالعدم تنظیمیں آزادانہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ سب سے خطرناک بات صوبائی حکومت کی جانب سے اس قدر سنگین خطرے کے باوجود شتر مرغ جیسا رویہ اختیار کرنا ہے۔

ہر پرتشدد واقعے کے بعد دہشتگردی اور انتہاپسندی کی تمام صورتوں کے خلاف کارروائی کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کرنا حکومت کے لیے ایک رواج بن چکا ہے۔ مگر یہ بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایک ایسی مثال وزیر اعظم کی جانب سے کوئٹہ سانحے کے بعد قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ جنرل ناصر جنجوعہ کی سربراہی میں قومی ایکشن پلان کے تحت ہونے والی پیش رفت کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک اور نظر ثانی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا فیصلہ تھا۔

مگر گزشتہ دو برسوں کے دوران بننے والی ایک درجن سے زائد نظر ثانی کمیٹیوں کی ہی طرح اس کمیٹی کا بھی نہ جانے کیا ہوا۔ بلند و بانگ وعدوں کے باوجود قومی ایکشن پلان پر شاید ہی کوئی قابل ذکر پیش رفت کا کوئی آثار نظر آیا ہو۔ یقیناً، بے تحاشا قتل عام بھی وزیر داخلہ کو ان فرقہ وارانہ عسکریت پسند گروپس کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور نہ کر سکا کہ جن گروپس کو انہوں نے 'کوشر' قرار دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں لاہور واقعہ تو ہونا تھا۔

بڑے پیمانے پر انٹیلیجینس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے کریک ڈاؤن کے دعوؤں کے باوجود چند فرقہ وارانہ اور عسکریت پسند نیٹ ورکس اب بھی جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں سرگرم ہیں۔ سیاسی مصلحت اور 'اچھے' اور 'برے' عسکریت پسندوں کے درمیان لکیر کھینچنے کی پرانی عادت اس خطرناک مسئلے سے نمٹنا مزید دشوار بنا دیتی ہیں۔

صرف گزشتہ دو برسوں کے دوران پنجاب میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہزاروں مشتبہ عسکریت پسندوں کو مبینہ طور پر گرفتار کیا جا چکا ہے، مگر انہیں سزا سنائے جانے یا حتیٰ کہ انسداد دہشتگردی عدالتوں میں ان کے مقدمات چلنے کی بھی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔

ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر گرفتار افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک غیر محفوظ نظام عدل کسی قسم کا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا۔ قومی ایکشن پلان کے تحت جو ملکی نظام عدل میں اصلاحات کے وعدے کیے گئے تھے ان پر حکومت کی جانب سے عمل در آمد کرنے میں ناکامی سے صورتحال مزید پیچیدگی کا شکار بن چکی ہے۔

مخصوص مدت ختم ہو جانے کے بعد فوجی عدالتیں بھی اب غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جیل میں قید مشتبہ افراد یا تو رہا ہو جائیں گے یا پھر کسی مقدمے کے بغیر جیل میں پڑے رہیں گے۔

اس کے ساتھ چند بڑے ناموں والے فرقہ وارانہ عسکریت پسند رہنماؤں کا مبینہ ماورائے عدالت قتل اس مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ بنیاد پرست جنگجوؤں کی مسلسل فراہمی کے ہوتے ہوئے قلیل المدتی اقدامات سے عسکریت پسندی کو ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسے اقدامات انسداد دہشتگردی اور انسداد انتہا پسندی کی جامع حکمت عملی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

سب سے بڑی خطرے کی بات بعض عسکریت پسند تنظیموں کے ارکان کی دولت اسلامیہ (آئی ایس) میں شامل ہونے کے بارے میں حساس اداروں کی رپورٹس ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ایسی رپورٹس کو زیادہ اہمیت نہیں دی، مگر ملک بھر میں ہونے والے کئی دہشتگرد حملوں کے تانے بانے اس بین الاقوامی دہشتگرد گروپ سے جا کر ملتے ہیں۔

یہ سچ ہو سکتا ہے کہ ملک میں دولت اسلامیہ کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ موجود نہ ہو مگر اس خطرے کو کسی صورت کم اہمیت کا حامل نہیں سمجھا جا سکتا۔ لاہور سمیت حالیہ دنوں میں ہونے والے کئی دہشتگرد حملوں کی ذمہ داریاں تحریک طالبان پاکستان کے جن دھڑوں نے قبول کیں، وہ مبینہ طور پر دولت اسلامیہ کی حمایت کا اقرار کرتے ہیں۔ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں اور دولت اسلامیہ کے درمیان تعلقات اور روابط کے بارے میں ابھرتی رپورٹس کو زیادہ سے زیادہ سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

اس بات میں حیرانی نہیں کہ تشدد کی حالیہ لہر کا الزام بیرونی ہاتھوں پر لگایا جا رہا ہے۔ یقینی طور پر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ موجودہ علاقائی تناؤ کے پیش نظر بیرونی ہاتھ کے امکانات کو پوری طرح سے رد نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے اپنے ہی لوگ ایسے حملوں میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ بیرونی قوتیں ہمارے ان مشکل حالات میں صرف اپنا مفاد تلاش کر سکتی ہیں اور یقیناً ہماری کاہلی انہیں ایسا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔

چیئرنگ کراس بم حملہ ریاستی اداروں کی آنکھیں کھول دینے والا ایک اور واقعہ ہونا چاہیے۔ یہ یقینی طور پر ایک طویل جنگ ہے کہ جو صرف تب ہی جیتی جاسکتی ہے جب ہم اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں گے۔

ہمارے ہمت سے عاری اقدامات دہشتگردوں کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔ ہمارے رہنماؤں کو خالی بیان بازی اور روایتی مذمت سے بڑھ کر اقدامات کرنے ہوں گے۔

اگر لاہور جیسے دہشتگرد حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنا ہے تو جنوبی اور شمالی پنجاب میں موجود عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں اور ان کے حامی نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا لازمی ہے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 15 فروری 2017 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں