متحدہ عرب امارات (یو اےا ی) کی میگا سٹی دبئی اپنی فلک بوس عمارتوں اور دیگر اعزازات کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔

دنیا کی مشہور تعمیرات کا احاطہ کرنے والے شہر دبئی میں گذشتہ سال سامنے آنے والے نئے منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ 'خوشی کا شہر' بسانے کا بھی تھا، مگر زمینی منصوبوں سے دور امارات کا مریخ کے حوالے سامنے آنے والا اعلان کافی حیران کن ہے۔

دبئی میں حالیہ دنوں جاری ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں متحدہ عرب امارات نے 2117 تک مریخ میں نیا شہر بسانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، دبئی کے حکمراں اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ' انسانی ارادوں کی کوئی حد نہیں ہوتی جبکہ جو کوئی موجودہ صدی میں ہونے والے سائنسی انقلاب کا شاہد ہے، وہ اس بات کو مانتا ہے کہ انسان کی صلاحیتیں اس کے خوابوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں'۔

اس انوکھے صد سالہ منصوبے کے چند عملی اقدامات سے متعلق بات کرتے ہوئے شیخ محمد راشد المکتوم کا کہنا تھا کہ مریخ-2117 ایک طویل مدتی منصوبہ ہے جبکہ اس کے لیے پہلے مرحلے میں امارات کے نوجوان شہریوں میں خلاء کے سفر کا رجحان پیدا کرنے پڑے گا۔

اس مقصد کے لیے دبئی کے حکمران امارات کی یونیورسٹیوں میں خلائی سائنس کے حوالے سے تعلیم شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

مریخ پر شہر بسانے کے منصوبے پر کام کا آغاز کرنے کے لیے جلد ہی اماراتی سائنسی ٹیم تیار کی جائے گی تاہم بعد ازاں اس میں بین الاقوامی سانسدانوں کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ 2014 میں یو اے ای اپنی خلائی ایجنسی کا آغاز کرچکا ہے، جس نے بعد ازاں فرانسیسی اور برطانوی خلائی ایجنسیوں سے شراکت قائم کرچکی ہے۔

علاوہ ازیں یو اےا ی کی جانب سے 2021 تک مریخ پر خلانوردوں کا مشن بھی روانہ کیا جائے گا۔