'یہ 40 سال کا قصہ ہے'

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2018

ای میل

— فوٹو بشکریہ کرس پورسز
— فوٹو بشکریہ کرس پورسز

فوٹوگرافی کے شوقین تو اکثر افراد ہوتے ہیں مگر اس کو کسی انوکھے کام کے لیے استعمال کرنے والے بہت کم اور ان میں سے ہی ایک برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کرس پورسز ہیں۔

یہ شوقیہ فوٹوگرافر پیشے کے لحاظ سے تو پیرامیڈک ہیں مگر 1970 کی دہائی کے آخر اور اسی کی دہائی کے شروع میں وہ مشرقی برطانوی شہر پیٹر برگ میں گھومتے پھرتے راہ گیروں کی تصاویر کھینچتے رہتے تھے۔

مانگنے والوں سے لے کر پولیس اہلکاروں تک، اس وقت یہ نو آموز فوٹو گرافر زندگی کے مختلف رنگوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کررہا تھا۔

اب لگ بھگ چالیس سال بعد کرس پورسز نے اسے ایک دلچسپ پراجیکٹ کی شکل دی جو کہ متاثرکن ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو زندگی کے سفر کی کہانی بھی بیان کرتا ہے۔

وہ گزشتہ سات برس سے لگ بھگ چالیس سال پہلے لی جانے والی تصاویر کے کرداروں کو تلاش کرکے انہیں اسی پوز میں ایک بار پھر تصویر کھچوانے کے لیے قائل کررہے ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا 'میرا نہیں خیال کسی نے بھی کبھی اس طرح اتنے ساری اجنبی افراد کو ڈھونڈا ہوا اور ان کی تصاویر کو اس طرح لیا ہو'۔

ان کا مزید کہنا تھا ' لوگوں ڈھونڈنا بہت مشکل کام تھا اور ان کا ملنا کسی اتفاق سے کم نہیں تھا مگر نتائج مسحور کردینے والے ہیں کہ لوگ کس طرح بدل جاتے ہیں اور ان کا اسٹائل کس طرح بدل گیا'۔

اس فوٹوگرافر نے صرف اپنی تصاویر کے لوگوں کو ہی نہیں ڈھونڈا بلکہ انہیں دوبارہ ملایا بھی جو دہائیوں سے ایک دوسرے سے نہیں ملے تھے۔

اس بارے میں ان کا کہنا تھا 'یہ بہت اطمینان بخش تھا کہ کتنے سارے لوگوں کو میں نے ملایا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ کو دیکھا جو کسی پرانے دوست کے ملنے سے آتی ہے'۔

انہوں نے ایک رائٹر جو رایلے کے ذریعے اپنی تصاویر اور ان کہانیوں کو ایک کتاب کی شکل دی جو ان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

اب آپ نیچے تصاویر کو دیکھ سکتے ہیں:

تصاویر بشکریہ کرس پورسز / فیس بک