اشتہار میں پاکستان کی جھلک، ہندو انتہا پسندوں نے سیٹ توڑ دیا

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2017

ای میل

فوٹو بشکریہ/ انڈین ایکسپریس—۔
فوٹو بشکریہ/ انڈین ایکسپریس—۔

جے پور: ہندوستان کی ایک انتہا پسند تنظیم نے ایک اشتہار کی شوٹنگ کے لیے تیار کیے گئے سیٹ پر محض اس وجہ سے توڑ پھوڑ مچادی، کیونکہ سیٹ پر پاکستان کی جھلک پیش کی جارہی تھی۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی سے تعلق رکھنے والی ایک پروڈکشن کمپنی نے اشتہار کی شوٹنگ کے لیے سیٹ تیار کیا تھا، جس میں پاکستانی علاقوں کو پیش کیا جانا تھا، اس مقصد کے لیے اردو میں سائن بورڈز تیار کیے گئے، جن پر ’ویلکم ٹو لاہور‘، ’کراچی چائے والا‘ اور ’لاہور کی مٹھائی‘ جیسے جملے تحریر تھے۔

یہ سیٹ جے پور کے چاندی چوک پر لگایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ممبئی: ہندو انتہا پسندوں کا پاکستانی کپڑوں کے اسٹال پر دھاوا

تاہم انتہا پسند تنظیم درویر بچاؤ سمیتی نامی پارٹی کے کارکنوں نے اس سیٹ پر توڑ پھوڑ مچانے کے ساتھ تمام بینرز کو بھی اتار دیا، اس تنظیم کا دعویٰ کیا کہ وہ 40 مقامی مندروں کے تحفط کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ پروڈکشن ٹیم کو اشتہار کی شوٹنگ کی اجازت دی گئی تھی تاہم مظاہرین کو جیسے ہی اس بات کا علم ہوا انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اشتہار کی شوٹنگ فوری طور پر روکی جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پروڈکشن ٹیم کا عملہ سیٹ پر توڑ پھوڑ ہونے کے بعد وہاں سے چلا گیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ دوبارہ اس شہر میں کبھی شوٹنگ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب مشتعل مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ سیٹ ہر ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'پدماوتی' کی شوٹنگ، سنجے لیلا بھنسالی پر حملہ

مظاہرین میں سے ایک شخص کا کہنا تھا، ’پروڈکشن ٹیم کو اجازت ملنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مذہبی جذبات کو مجروح کریں، یہ کوئی مختصر یا اشتہاری فلم نہیں تھی اس لیے ہم نے شوٹنگ روکنے کا مطالبہ کیا‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جے پور میں ہندوستان پروڈیوسر سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوتی‘ کے سیٹ پر بھی انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

ہندو انتہا پسند تنظیم کرنی سینا کے ارکان نے سنجے لیلا بھنسالی پر الزام لگایا تھا کہ ان کی فلم ’پدماوتی‘ میں رانی پدماوتی کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔