اسلام آباد: مولانا اعظم طارق قتل کیس کا مرکزی ملزم گرفتار

اپ ڈیٹ 11 مئ 2017

ای میل

سبطین کاظمی کو ایف آئی اے نے مانچسٹر فرار ہوتے ہوئے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا—۔فوٹو/ شکیل قرار
سبطین کاظمی کو ایف آئی اے نے مانچسٹر فرار ہوتے ہوئے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا—۔فوٹو/ شکیل قرار

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کالعدم سپاہِ صحابہ (موجودہ اہلِ سنت والجماعت) کے سربراہ مولانا اعظم طارق کے قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی کو بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیا۔

مولانا اعظم طارق کو 6 اکتوبر 2003 کو اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا—۔فائل فوٹو
مولانا اعظم طارق کو 6 اکتوبر 2003 کو اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا—۔فائل فوٹو

سبطین کاظمی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے مانچسٹر فرار ہوتے ہوئے انھیں اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا۔

یاد رہے کہ مولانا اعظم طارق کو 6 اکتوبر 2003 کو اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

مولانا اعظم طارق کے قتل کی ایف آئی آر ان کے بھائی کی مدعیت میں اسلام آباد کے گولڑہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں سبطین کاظمی کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

حکومت نے ان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔

1990 کی دہائی میں حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد اعظم طارق سپاہِ صحابہ (موجود اہل سنت والجماعت) کے سربراہ بن گئے تھے، 1993 کے انتخابات میں وہ جھنگ کے حلقہ این اے 68 سے 55,004 ووٹ لے کر فتح یاب ہوئے، تاہم 1997 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے ہاتھوں یہ نشست کھو بیٹھے۔

2002 کے انتخابات میں جھنگ کے حلقہ این اے 89 کی نشست جیت کر اعظم طارق ایک بار پھر قومی اسمبلی میں لوٹ آئے۔ انہوں نے طاہر القادری کو شکست دی تھی۔

تاہم ایک سال بعد ہی مولانا اعظم طارق کو قتل کر دیا گیا۔