— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

بات گرم مشروبات کی ہو تو دنیا بھر میں کافی اور چائے کی مقبولیت کا مقابلہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔

ان دونوں مشروبات کے اپنے فوائد ہوتے ہیں اور جن لوگوں کو کافی پسند ہوتی ہے وہ چائے کا استعمال زیادہ پسند نہیں کرتے۔

تاہم اگر کوئی کافی چھوڑ کر چائے کو اپنا لیتا ہے تو اس کے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ان دونوں میں زیادہ بہتر مشروب کونسا ہے؟

مزید پڑھیں : چائے پینے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟

دانت زیادہ چمکدار

کافی دانتوں پر داغ لگانے کے حوالے سے بدنام ہے، تو اس کی جگہ چائے کو ترجیح دینے سے آپ کی مسکراہٹ زیادہ جگمگانے لگے گی، خاص طور پر اگر آپ سبز چائے یا دودھ والی چائے کو ترجیح دیں، طبی ماہرین کے مطابق چائے کے استعمال سے دانتوں پر ایسے داغ نہیں لگتے جیسا لوگ سوچتے ہیں۔

کولیسٹرول میں کمی

کافی اگر فلٹر نہ ہو جیسے ایسپریسو تو اس میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم میں جاکر صحت کے لیے نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح ممکنہ طور پر بڑھا سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس کے مقابلے میں چائے کے استعمال سے ایسا نہیں ہوتا بلکہ کولیسٹرول کی سطح میں بہتری بھی آسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سبز چائے کے 10 طبی فوائد جن سے آپ لاعلم ہوسکتے ہیں

سر درد ہونا

اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ تبدیلی کے حوالے سے آپ کا جسم کتنا حساس ہے اور آپ کتنی کیفین کو استعمال کرنے کے عادی ہیں، جس کے باعث کافی سے چائے پر متنقل ہونے سے ہوسکتا ہے کہ آپ کو اکثر سردرد ہونے لگے، تاہم جسم جب اس تبدیلی سے مطابقت پیدا کرلیتا ہے تو یہ علامات غائب ہوجاتی ہیں۔

سینے میں جلن میں بہتری

کافی غذائی نالی اور معدے کے درمیان موجود مسلز کو ریلیکس کرتی ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو معدے میں موجود تیزابی سیال اوپر کی جانب آکر سینے میں جلن کا باعث بنتا ہے، اگر کافی کے استعمال کے بعد اکثر یہ شکایت ہوتی ہے تو چائے اس کا بہترین متبادل ہے جس میں کیفین کی مقدار کافی کم ہوتی ہے۔

بہتر نیند

چونکہ کافی میں چائے کے مقابلے میں کیفین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو اس سے دوری کے نتیجے میں آپ کو اچھی نیند کے حصول میں مدد مل سکتی ہے، کیونکہ کیفین بے خوابی اور جگانے کا باعث بنتی ہے۔

مسلز اکڑنے سے بچ سکیں گے

بہت زیادہ کافی کے نتیجے میں جسم کے لیے دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی میگنیشم کو جذب کرنا مشکل ہوجاتا ہے حالانکہ کافی میں بھی اس منرل کی تھوڑی بہت مقدار ہوتی ہے، جسکے نتیجے میں مسلز اکڑنے کی شکایت زیادہ ہونے لگتی ہے، لہذا چائے کا استعمال آپ کو ان اثرات سے تحفظ دیتا ہے۔

مزاج میں تبدیلی

مختلف رپورٹس کے مطابق کافی کا استعمال مزاج کو خوشگوار اور ڈپریشن کا خطرہ کم کرتا ہے، ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دو سے چار کپ روزانہ کافی پینے والے افراد میں خودکشی کا رجحان 50 فیصد تک کم ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں چائے کے انتخاب سے آپ ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔

کینسر کا کم خطرہ

طبی تحقیقی رپورٹس میں کافی کا استعمال جگر اور آنتوں کے کینسر کے خطرے میں کمی کا باعث بتایا گیا مگر چائے ان دونوں اقسام کے ساتھ ساتھ معدے، لبلبے، بریسٹ اور دیگر کینسر کا خطرہ بھی کم کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ مگر یہ واضح ہے کہ چائے میں اینٹی آکسائیڈنٹ ای سی جی سی موجود ہوتا ہے خاص طور پر سبز چائے میں، جو کہ ایسے مالیکیولز کے خلاف لڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ کینسر کا باعث بنتے ہیں۔

بہتر ہائیڈریشن

ویسے آپ نے جو بھی سنا ہو مگر کافی جسم میں پانی کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، آپ کا جسم کافی کے ایک کپ میں موجود سیال کا ایک تہائی حصہ برقرار رکھ پاتا ہے مگر چونکہ چائے میں کیفین کم ہوتی ہے لہذا وہ اس معاملے میں بہتر ہے، اگر جسم میں پانی کی سطح مناسب ہو تو سر چکرانے، جلد خشک ہونے جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہوتا جبکہ جسمانی افعال بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔