واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے قبل امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر دہشت گردی سے متعلق پہلی پابندی لگادی۔

ڈونلڈ ٹرمپ منصب صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب جارہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے حزب اللہ کے سینئر رہنما ہاشم سیف الدین اور مصر کے جزیرہ نما سینائی میں داعش کے آپریشنز کے رہنما محمد العیساوی پر پابندیوں کا اعلان کیا۔

ہاشم سیف الدین کو ہدف بنانے میں سعودی عرب بھی امریکا کے ساتھ شامل ہے، جنہیں لبنان سے تعلق رکھنے والی پارٹی کے مالی معاملات کا نگراں کہا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’پابندی کے نتیجے میں ہاشم سیف الدین کے سعودی عرب میں موجود تمام اثاثے منجمد ہوجائیں گے اور سعودیہ سے ان کے اثاثے منتقل کرنے پر پابندی ہوگی۔‘

حزب اللہ کو سعودی عرب کے سب سے بڑے حریف ایران کا قریب سمجھا جاتا ہے، جس نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو دوام بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب ایران اور حزب اللہ پر حوثی باغیوں کی مدد کرکے یمن میں جنگ کو ہوا دینے کا بھی الزام لگاتا ہے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کو، جس کے لبنان کی پارلیمنٹ اور کابینہ میں اراکین بھی موجود ہیں، امریکی حکومت دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز یمن سے تعلق رکھنے والے دو قبائلی رہنماؤں ہاشم محسن ایدارُس الحامد اور خالد علی مبخُت الارادہ پر بھی پابندیاں عائد کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں افراد نے امریکا کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والی عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی مدد کے لیے رقوم اور اسلحے کی منتقلی اور لوگوں کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ چاروں افراد یا تو دہشت گردی میں ملوث رہے یا انہوں نے اس کی منصوبہ بندی اور امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے 5 ممالک کے دورے کے آغاز میں ہفتہ کے روز ریاض پہنچیں گے۔