متحدہ عرب امارات میں ماہ رمضان کیسے گزرتا ہے؟

اپ ڈیٹ 28 مئ 2017

ای میل

ابو ظہبی میں رمضان کی آمد پر چراغاں — تصویر صوفیہ کاشف
ابو ظہبی میں رمضان کی آمد پر چراغاں — تصویر صوفیہ کاشف

متحدہ عرب امارات میں ماہ رمضان ایک طویل فیسٹول سیزن کا آغاز سمجھا جاتا ہے جو بلاشک وشبہ یہاں کے شہریوں کے لیے رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ کئی آسانیوں کا باعث بن جاتا ہے۔

مگر فیسٹول سے مراد یہ نہیں کہ اس کے لیے خاص دھوم دھڑکے والے پروگرام، تقاریب اور شور شرابا بر پا ہو، بلکہ عام عوام کے لیے آسانیوں، مہربانیوں اور بچتوں کا تیس روزہ منصوبہ شروع ہو جاتا ہے، جو عید الفطر کے بعد اوپر نیچے آنے والے حج، بقر عید اور نئے اسلامی سال کے آغاز تک کئی انداز میں رنگ بدلتا رہتا ہے۔

اسی عرصے کے دوران کچھ غیر مسلم ممالک اور مذاہب کے تہوار اور خاص ایام بھی میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ رمضان کے آغاز سے پہلے ہی شہر بھر کے پل، کارنر اور اہم شاہراہوں کو خوبصورت برقی قمقموں سے سجا دیا جاتا ہے۔ جبکہ ان کی روشنی تیز نہیں ہوتی بلکہ بغیر آنکھیں چندھیائے، بغیر جگمگاہٹوں کی افراط کیے، ہلکی پھلکی خوبصورتی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نجی شعبوں کی عمارتوں جیسے مالز، شاپنگ سینٹرز اور دیگر اہم عمارتوں کو بھی جگمگا دیا جاتا ہے۔رمضان کریم کے پوسٹرز، روشنیاں، لالٹین کے سنہرے ماڈلز اور فانوس، چھتوں سے لٹکے، ریسٹورنٹ میں میزوں پر رکھے اور شاپنگ سینٹرز میں دیواروں پر سجے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ چراغاں رمضان سے شروع ہو کر اسی رعنائی اور خوبصورتی کے ساتھ بقر عید کے بعد نئے اسلامی سال کے آغاز تک روشنیاں بکھیرتا رہتا ہے۔

ابو ظہبی میں رمضان کی آمد پر چراغاں — تصویر صوفیہ کاشف
ابو ظہبی میں رمضان کی آمد پر چراغاں — تصویر صوفیہ کاشف

ابو ظہبی میں رمضان کی آمد پر چراغاں — تصویر صوفیہ کاشف
ابو ظہبی میں رمضان کی آمد پر چراغاں — تصویر صوفیہ کاشف

شعبان کے آغاز سے ہی تمام ریاستوں کی تمام سپر مارکیٹس میں پچاس سے پچھتر فیصد رمضان خصوصی سیل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ کھانے پینے اور معمولات رمضان میں استعمال کی اشیاء کے ساتھ یہ خصوصی سیل کھجوروں، برتنوں، مجالس کے سامان، لالٹینز سے لے کر چائے پانی، سوپ، ڈسپوزبل برتنوں تک ہر چیز پر ہوتی ہے اور شاپنگ سینٹرز یہ سب چیزیں پہلی لائینوں میں لگاتے دیتے ہیں۔

بہت سے کفایت شعار گھرانے ماہ رمضان میں سال بھر کی شاپنگ کر کے اپنے اخراجات سنبھالیتے ہیں۔ یہ سیل شعبان سے شروع ہو کر آخری روزے تک مسلسل جاری رہتی ہے، جس میں دو کی قیمت میں تین اور تین کی قیمت میں پانچ چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اکثر گھی، دالوں، اور ڈبہ بند خوراکوں سمیت کئی اشیائے صرف کے ساتھ ڈبے، ٹرے سیٹ، پیالے کے تحائف ملنا بھی عام ہیں جو عام خواتین کو متاثر کرتے ہیں اور رمضان میں ان کے کچن کی زینت بنتے ہیں۔

شیخ زید جامع مسجد سمیت، ریاست کی ہر جامع مسجد میں بڑی تعداد میں بڑے بڑے خیمے نصب کر دیے جاتے ہیں، جہاں حکومت کی طرف سے پورا مہینے مفت افطار اور سحور کا بہتریں انتظام کیا جاتا ہے۔ یہ افطار اور سحور اعلٰی معیار کے ساتھ تیار کی جاتی ہے اور جامع مساجد میں یہ سحور اور افطار، خیرات کے بجائے ایک روایت اور اجتماعی دعوت کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں کیونکہ اس میں صرف غریب مزدور طبقہ ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ سفید پوش، متوسط طبقے اور نماز پڑھنے کے لیے آنے والا کوئی بھی شخص شریک ہونے سے گریز نہیں کرتا۔

شیخ زید مسجد — تصویر صوفیہ کاشف
شیخ زید مسجد — تصویر صوفیہ کاشف

ان مساجد میں روزانہ ہزارہا لوگوں کو مفت افطار اور سحور کی دعوت کا اہتمام ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے خیمے تمام اہم شاہراہوں اور مقامات پر بھی نصب کیے جاتے ہیں اور ہر چھوٹی سے چھوٹی مساجد میں بھی مفت کے دسترخوان پورا ماہ صیام چلتے ہیں جس کی بدولت یہاں کے غریب مزدور طبقے کے علاوہ کم آمدن والے یا گھر سے دور رہنے والے تارکین وطن کو صحیح معنوں میں سال کے ایک ماہ کھانے پر ہونے والے خرچے کی بچت کے ساتھ ساتھ بہتریں کھانا بھی نصیب ہوتا ہے۔

حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ عرب عوام بھی اپنے کھلے دل اور سخاوت کو مزید وسیع کرتے ہوئے چوراہوں اور سڑکوں کے کنارے بیٹھے غریب تارک الوطن کو کھانا فراہم کرتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ویسے بھی سڑکوں کے کنارے کام اور خیرات کے منتظر مزدوروں کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جنہیں کھلے دل سے ڈھیروں ڈھیر کھانا یہی عرب خاندان مہیا کرتے ہیں۔

رمضان اسپیشل پروگرام کے تحت حکومتی رضاکار افطار کے اوقات میں اکثر اہم شاہراہوں پر چھوٹے افطار ڈبوں پر مشتمل بڑے بڑے ڈبے لیے موجود ہوتے ہیں اور افطار کا وقت ہوتے ہی سگنل پر رکی گاڑیوں میں سوار افراد کو افطار پیش کرتے ہیں۔

سڑک کے کنارے افطار بانٹنے کے لیے کھڑے رضاکار— تصویر صوفیہ کاشف
سڑک کے کنارے افطار بانٹنے کے لیے کھڑے رضاکار— تصویر صوفیہ کاشف

سڑک کے کنارے افطار بانٹنے کے لیے کھڑے رضاکار— تصویر صوفیہ کاشف
سڑک کے کنارے افطار بانٹنے کے لیے کھڑے رضاکار— تصویر صوفیہ کاشف

گزشتہ برس ایک شخص کی طرف سے شروع کی گئی " کمیونٹی فِرج" کا سلسلہ وسیع کرنے کے لیے 60 سے زیادہ فرج اکثر ریاستوں میں نصب کیے جا رہے ہیں جن میں کوئی بھی بطور فلاحی کام میں مدد کرتے ہوئے کھانا، پانی یا جوسز وغیرہ رکھ سکتا ہے اور کوئی بھی ضرورتمند ان سے استفاده کر سکتا ہے۔

ماہ رمضان میں ہر طرف پھیلی رحمتوں، مہربانیوں، سخاوتوں کی اس فضا کی تاثیر غیر مسلم بھی محسوس کرتے ہیں اور اکثر ان ایام میں فلاح کے رحجان کی پیروی اور مدد کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔

شہر بھر میں روزے کے اوقات میں ریسٹورنٹ اور کھابے مکمل طور پر بند رکھنے کی حکومتی پابندی ہے۔ رمضان کی تعظیم میں یہاں رہایش پزیر اور دفاتر میں ملازمت پیشہ غیر مسلم خواتین بھی اکثر ڈیسنٹ ملبوسات اور بعض اوقات سر پر اسکارف تک اوڑھنے لگتی ہیں۔ ایسا شاید اس لیے بھی ہوتا ہے کہ پورے خطے میں ایک بہت جاندار اور پرتاثیر قسم کی پاکیزگی اور احترام رچ بس جاتا ہے جس کی تاثیر سے غیر مسلم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔

چوراہوں پر موجود غریب مزدور — تصویر صوفیہ کاشف
چوراہوں پر موجود غریب مزدور — تصویر صوفیہ کاشف

عرب باشندے بنیادی طور پر صوم وصلاۃ کے پابند ہیں اور نماز میں اہتمام اور عجلت کرتے ہیں۔ وہ اپنی نمازوں کو آخری اوقات تک لٹکاتے نہیں بلکہ اذان ہوتے ہی گاڑی سے اتر کر کسی شاہراہ کے کنارے نماز ادا کرتے ہیں، کسی گارڈن میں بیٹھے، شاپنگ کرتے اذان ہو جانے پر جلد ہی نماز کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ اسی لیے موٹر ویز اور شاہراوں کے کنارے ازان کے بعد اکثر گاڑیاں رکی اور انکے سوار باہر کنارے پر جائے نماز بچھائے نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

رمضان المبارک میں یہ اہتمام کئی گنا بڑھ جاتا ہے اس لیے نماز کے اوقات میں مساجد عورتوں اور مردوں سے بھری ہوتی ہیں اور خصوصاً جمعہ کے اوقات میں نمازیوں کی صَفیں مساجد کی حدوں سے باہر تک پھیلتی چلی جاتی ہیں اور لوگ دھوپ کی شدت کی پرواہ کیے بغیر اپنی اے سی گاڑیاں چھوڑ کر سخت دھوپ میں گرم زمین پر جائے نماز بچھا کر نیت کر لیتے ہیں۔

چھوٹی سے چھوٹی مساجد کے باہر بھی ہر نماز اور تراویح کے اوقات میں گاڑیوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں جو یقینا دیکھنے والوں کے دلوں پر ایک ہیبت پیدا کر دیتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی ریاستیں عموماً رات گیارہ بجے بند ہو جانے کی عادی ہیں۔ ہفتہ بھر مالز اور شاپنگ سینٹرز دس بجے اور سپر مارکیٹس گیارہ بجے بند ہو جاتے ہیں۔ صبح 5 بجے اٹھ کر 6 بجے گھر سے نکلنے والے ملازمت پیشہ افراد (جن کی یہاں اکثریت ہے) اور اسکول کالجوں کے بچے، طلبا و طالبات رات 8 سے دس کے درمیان سو جاتے ہیں۔ رات بارہ بجے تک صرف اسٹریٹ لائٹس جلتی اور ہلکی پھلکی ٹریفک رہ جاتی ہے۔

اشیائے صرف کی خریداری، سیرو تفریح یا ڈاکٹرز کے لیے ہفتے کے اختتام پر ہی سب کے سب گھروں سے نکلتے ہیں، چناچہ ویک اینڈ پر مالز اور شاپنگ سینٹرز گیارہ بجے اور سپر مارکیٹس ایک بجے تک کھلی رہتی ہیں۔

ماہ رمضان میں یہ ریاستیں ساری رات جاگنے لگتی ہیں اور مالز، شاپنگ سنٹرز، سپر مارکیٹس سب سحور تک کھلے رہنے لگتے ہیں۔ بچے اور نوجوان ساری رات گلیوں میں کھیلتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رمضان میں کام اور سکول کے اوقات ایک دم سے تین سے چار گھنٹے پیچھے ہو جاتے ہیں، اس لیے دن کے اوقات میں آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کا خاطر خواہ انتظام ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت خوشگوار تبدیلی اور آسانی ہے جو صرف ماہ رمضان میں نصیب ہوتی ہے۔

بہت سی چھوٹی وجوہات کے ساتھ ساتھ یہ کچھ بڑی واضح وجوہات ہیں جو عرب امارات میں رمضان سب کے لیے مشکل نہیں بلکہ رحمتوں برکتوں اور آسانیوں کا مہینہ بن کر آتا ہے جس کے فیوض اور برکات سے مسلم اور غیر مسلم ایک ساتھ سیراب ہوتے ہیں۔