خیبرپختونخوا کے ضلع بٹ گرام کے علاقے گجبورائے میں مقامی افراد نے زمینوں کے معاوضے کی عدم ادائیگی پر پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پرجیکٹ13 پر احتجاج کرتے ہوئے کام کو رکوا دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق گجبورائے کے سیکڑوں رہائشیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چینی حکام کو منصوبے پر کام کرنے سے روک دیا اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت ان کی قیمتی زمینوں کا معاوضہ ادا نہیں کرتی تب تک کام شروع نہیں ہوگا۔

مظاہرین کی قیادت سی پیک متاثرین کمیٹی کے اراکین حاجی انور بیگ، گل محمد خان، محمد حنیف اور الطاف حسین کر رہے تھے جبکہ کمیٹی میں 35 اراکین شامل ہیں۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئےانھوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اس حوالے سے کئی اجلاس ہوچکے ہیں لیکن وہ جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔

انور بیگ کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے ہمیں اپنے حق کے حصول کے لیے باہر نکلنے پر مجبور کیا جبکہ حکومت نے کام کا آغاز کردیا ہے جو 2018 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا لیکن زمینوں کا معاوضہ نہیں دیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کمرشل علاقہ ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی روٹ قراقرم ہائی وے کا علاقہ ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمیں کمرشل ریٹس پر ادائیگی کرے'۔

یہ بھی پڑھیں:'خیبر پختونخوا کے 7 منصوبے سی پیک میں شامل'

انھوں نے کہا کہ کاس پل سے تھاکوٹ پل کے درمیان سی پیک متاثرین کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے جہاں زیرزمین منصوبے کے لیے ان کی قمیتی زمینیں حاصل کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں حکومت اور این ایچ اے حکام کی جانب سے جھوٹی تسلیاں دی گئیں اور انھوں نے ہمیں اربوں کے منصوبے پر کام روکنے پر مجبور کردیا'۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ انھیں صرف اپنی زمینوں کے پیسے چاہیے جس کے لیے این ایچ اے کے متعلقہ حکام سے بات ہوئی تھی دوسری صورت میں جب تک عملی اقدامات نہیں کیے جاتے وہ منصوبے پر کام نہیں کرنے دیں گے۔

ڈپٹی کمشنر سردار اسد ہارون کا کہنا تھا وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ مقامی افراد کو سی پیک کے تعمیراتی کام کو نہ روکنے سےباز رکھنے کے لیے قائل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔