امجد صابری کے نام پر قوالی انسٹی ٹیوٹ قائم

اپ ڈیٹ 17 جون 2017

ای میل

امجد صابری کی یاد میں پروگرام صوبائی وزارت ثقافت اور آرٹس کونسل کی شراکت سے منعقد کیا گیا تھا۔—فوٹو: ڈان اخبار
امجد صابری کی یاد میں پروگرام صوبائی وزارت ثقافت اور آرٹس کونسل کی شراکت سے منعقد کیا گیا تھا۔—فوٹو: ڈان اخبار

کراچی: صوبائی وزیر ثقافت سید سردار شاہ نے معروف قوال امجد صابری کے نام پر قوالی انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح رواں برس اگست میں کیے جانے کا اعلان کردیا۔

گذشتہ سال 22 جون کو قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے معروف قوال امجد صابری کی یاد میں جمعرات (15 جون) کی شب آرٹس کونسل میں منعقدہ خصوصی تقریب میں نہ صرف امجد صابری کے تمام اہل خانہ شریک ہوئے بلکہ ان کی والدہ، اہلیہ، بچوں اور بھائیوں نے پروگرام میں شریک قوال گروپ کی پرفارمنس پر انہیں کھل کر داد بھی پیش کی۔

مذکورہ پروگرام صوبائی وزارت ثقافت اور آرٹس کونسل کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امجد صابری کی برسی پر بھتیجیوں کا خراج عقیدت

فرید ایاز اور ابو محمد کی جانب سے دو خوبصورت قوالیاں پیش کیے جانے کے بعد تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ثقافت سید سردار شاہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امجد صابری کو مرحوم کہا جارہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سردار شاہ کا کہنا تھا کہ 'وہ مرے نہیں ہیں، وہ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہمیں سن رہے ہیں، امجد صابری جیسے لوگ وفات نہیں پاتے، جو لوگ انہیں قتل کرتے ہیں وہ ہلاک ہوجاتے ہیں'۔

وزیر ثقافت نے کہا کہ انہوں نے اور آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے سوچا تھا کہ امجد صابری کو 22 جون کو ہی خراج عقیدت پیش کیا جائے تاہم رمضان کے آخری عشرے کی وجہ سے پروگرام کو ایک ہفتہ قبل منعقد کیا گیا۔

سردارشاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امجد صابری کے گھر کے دورے پر وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے نام پر قوالی انسٹی ٹیوٹ قائم کریں گے اور حالیہ اعلان کردہ بجٹ کے مطابق 'امجد صابری قوالی انسٹی ٹیوٹ بن چکا ہے جو اگست میں فعال ہوجائے گا'۔

مزید پڑھیں: امجد صابری قتل: گرفتار ملزمان کے چونکا دینے والے انکشافات

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فن کی اس جہت کو اب اس انسٹی ٹیوٹ کی مدد حاصل ہوگی، ساتھ ہی انھوں نے امید ظاہر کی کہ آرٹس کونسل بھی اس حوالے سے ادارے کو مدد فراہم کرے گا۔

اس سے قبل امجد صابری کی یاد میں منعقدہ پروگرام کا آغاز وصی نظامی قوال پارٹی کی 'من کنت مولا' سے ہوا، انہوں نے 'ہمیں تو مست کیا' پر بھی اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔

جس کے بعد جگنو فرید قوال نے بھی دو قوالیاں پیش کیں تاہم فرید ایاز اور ابو محمد نے اسٹیج پر آتے ہی سماں باندھ دیا۔

دونوں فنکاروں نے خوبصورت انداز میں قصیدہ بردہ شریف پیش کرکے شائقین کی داد وصول کی اور پھر داد و تحسین کے شور میں خسرو کا مشہور کلام 'چھاپ تلک' پیش کرکے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔