وزیراعظم کے ساتھ کوئی خفیہ ڈیل نہیں ہوئی: رحمٰن ملک

اپ ڈیٹ 22 جون 2017

اسلام آباد: پاناما پیپرز کیس کے معاملے پر وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے درمیان کوئی ڈیل طے پانے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اپنی پیشی پر صرف سچ کہیں گے۔

گذشتہ روز سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 64ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کیک کاٹنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ 'میں جے آئی ٹی کے سامنے وہ کہوں گا جو میرے پاس موجود دستاویزات میں درج ہے'۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ 11 جون کو جب جے آئی ٹی کا سمن انہیں موصول ہوا وہ ملک سے باہر تھے، لہذا انہوں نے ٹیم کو بتایا کہ وہ 13 جون کو پیش نہیں ہوسکتے، نئی تاریخ دی جائے اور اب وہ 23 جون (جمعہ) کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔

رحمٰن ملک نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ وہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے کیا کہیں گے اور کیا پیش کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

مزید پڑھیں: پاناما جے آئی ٹی نے رحمٰن ملک کو بھی طلب کرلیا

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے صدر کو جمع کرائی گئی منی لانڈرنگ تحقیقات کی رپورٹ کی کاپی کا جائزہ لے رہا ہوں۔

جے آئی ٹی کارروائیوں کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت شواہد کے لیے ایسا کرنے کی اجازت نہیں، جب جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے جاؤں گا تو یہ معاملہ اٹھاؤں گا۔

پی پی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چند رہنماؤں کی جانب سے ان پر کی جانے والی تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر کا کہنا تھا ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کا نام بھی پاناما پیپرز میں شامل ہے۔

رحمٰن ملک نے چیلنج کیا کہ اگر یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر انہوں نے کوئی ذاتی انکوائری نہیں کی اور تمام کارروائی سرکاری طریقے سے کی گئی۔

سابق ایف آئی اے عہدے دار انعام سہری کے دعوؤں پر ان کا کہنا تھا کہ انعام سہری انکوائری کرنے والی ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن اگر ان کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ جے آئی ٹی میں جمع کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

واضح رہے کہ انعام سہری کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی انکوائری کی ہے اور ان کے پاس شریف خاندان کے منی ٹریل کے حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ اگر انعام سہری کو پاکستان آنے میں تحفظات ہیں تو وہ تفتیش کے لیے جے آئی ٹی کے دورہ برطانیہ کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

سابق وزیر نے مزید کہا کہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کی متعدد انکوائریاں کی گئیں جن میں سے پانچ ایف آئی آر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔

میثاقِ جمہوریت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاہدوں پر دستخط اس لیے ہوتا ہے کہ بعد میں انہیں توڑا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے کے دوران میثاق کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی تھی کیونکہ اس وقت جمہوریت خطرے میں تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کوئی امپائر بننے کی کوشش کررہا تھا لیکن وہ کوشش پی پی پی قیادت کے سیاسی پختگی کی وجہ سے ناکام بنادی گئی'۔


یہ خبر 22 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.

تبصرے (0) بند ہیں