لاہور میں ایک مسیحی بائی سائیکل مکینک کو گاہک سے خدمت کے عوض رقم کے تنازع کے بعد توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

انسانی حقوق کے کارکن نیپولیَن قیوم نے ڈان کو بتایا کہ لاہور کے گرین ٹاؤن کے علاقے مریم کالونی کے رہائشی اشفاق مسیح شہر کے مضافات میں ریپیئر شاپ پر کام کر رہا تھا جس دوران اس نے اسی علاقے کے ایک رہائشی محمد اشفاق کی بائی سائیکل کی مرمت کی۔

نیپولیَن قیوم نے کہا کہ دونوں کے درمیان اس وقت تلخ کلامی ہوئی جب اشفاق مسیح نے 40 روپے کا مطالبہ کیا جس پر اشفاق نے مسیح سے پیسے کم کرنے کی درخواست کی کیونکہ وہ غریب شخص تھا۔

نیپولیَن قیوم کے مطابق دونوں کے درمیان تلخ کلامی اس وقت بڑھی جب اشفاق مسیح نے محمد اشفاق کو یہ کہتے ہوئے پیسے کم کرنے سے انکار کیا کہ وہ خود بھی ایک غریب شخص ہے اور اسے بھی پیسوں کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گستاخی کا الزام، ساتھیوں کے تشدد سے طالبعلم ہلاک: پولیس

انسانی حقوق کے کارکن نے دعویٰ کیا کہ دونوں کے درمیان تلخ کلامی پر جب وہاں مجمع اکٹھا ہوا تو اس دوران چند نامعلوم افراد نے اشفاق مسیح پر توہین مذہب کا الزام لگایا جس نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔

صورتحال بگڑنے پر پولیس کو طلب کیا گیا جس نے موقع پر پہنچ کر اشفاق مسیح کو گرفتار کرکے گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔

اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن وسیم اختر نے ڈان کو اشفاق مسیح کے خلاف گستاخی کا مقدمہ درج کرنے کی تصدیق کی۔

مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں