کشمکش صرف یہ ہے کہ فیصلے کون کرے گا

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2017

ای میل

40 سال پہلے آج ہی کے دن اس سرزمین پاک پر جو طوفان اٹھا تھا وہ آج تلک جاری و ساری ہے۔ مقبولِ عام وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر شب خون مارنے سے آج تک کچھ طاقتور گروہ یہ مصمّم فیصلہ کیے بیٹھے ہیں کہ فیصلے منتخب ایوانوں میں نہیں بلکہ غیر منتخب اشرافیہ کے ڈرائینگ روموں، سیف ہاؤسوں اور ان دفاتر نما اداروں میں ہوں گے جو آئین کے تحت منتخب ایوانوں کے ماتحت ہیں۔

جب ہر دلعزیز بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا گیا تھا تب عدالت مقتدر گروہوں کے قبضے میں تھی مگر بھٹو مخالف یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ عوام بھٹو کے عدالتی قتل کو معاف نہیں کرے گی۔

ان گذرے 40 سالوں میں پہلا ایجنڈا یہی تھا کہ بھٹو کو کراچی اور پنجاب سے بے دخل کیا جائے اور سندھی، بلوچی، پختون قوم پرستوں کو سایہ نگہبانی میں لیا جائے۔ اس کا نیہہ پتھر مگر قومی اتحاد کی تحریک میں رکھا جا چکا تھا جس میں ترقی پسندوں، اسلام پسندوں اور قوم پرستوں کا ملغوبہ نیشنلائزیشن کے مخالفوں سے مل کر تیار کیا گیا تھا۔

مگر بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیاء مخالفت میں بننے والی ایم آر ڈی کی تحریک نے اس ایجنڈے کو زنگ لگا دیا۔ ضیاء نے آٹھویں آئینی ترمیم اور غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے مستقبل کا زائچہ تیار کیا جس میں صدر کے ادارے کو اختیارات کا 'گھما' بنایا گیا اور آئین کو مشرف بہ اسلام کرنے کے لیے 62 اور 63 سمیت کئی اسلامی دفعات داخل کی گئیں۔

یہی نہیں بلکہ نجکاری کے عالمی ایجنڈے پر عمل کرنے کا آغاز بھی اسی دور میں شروع ہوا۔ اس سب کا مقصد اور 'ٹیچا' اک ہی تھا کہ سیاستدانوں کو یہ باور کروایا جائے کہ فیصلے منتخب ایوانوں میں نہیں ہوں گے۔

پڑھیے: 1977 سے 2017 تک: ضیاء الحق نے پاکستان کو کیسے تبدیل کیا؟

امریکی، سعودی اور مغربی یورپی طاقتوں کی ایماء پر لڑی جانے والی افغان جنگ کو 'قومی مفاد' کہا گیا کیوں کہ اس کا مقصد امریکی ڈالروں کا حصول اور مقبول عام سیاسی جماعتوں کو اقتدار سے باہر رکھنا ہی تھا۔ معاشرہ تباہ ہوتا رہا مگر افغان جنگ سے سیاسی اور مالی فوائد سمیٹے جاتے رہے، جبکہ دوسری طرف انتہا پسندی، فرقہ پرستی، لاقانونیت اور من پسند نجکاری کو برابر بڑھنے دیا گیا۔

جب عالمی حالات بدلنے لگے تو عالمی ایجنڈے بھی بدل گئے۔ بات جنیوا معاہدہ تک پہنچی تو اک کمزور محمد خان جونیجو اس قدر باہمت ہوگئے کہ جرنیلوں کو ایف ایکس سوزوکیاں استعمال کرنے کا حکم دے ڈالا۔ ہماری غیر منتخب اشرافیہ کو جینیوا معاہدے اور جونیجو کی اس ہمت پر غصہ تو بہت آیا، پھر بھی سمجھ نہیں آئی۔

ضیا الحق کا جہاز 'پٹ' گیا تو ضیا ہی کے کچھ چہیتوں نے 'قومی مفاد' کی خاطر اس پر چپ سادھ لی۔ اس وقت جنرل حمید گل افغان جنگ لڑنے والے ادارے کے سربراہ تھے تو غلام اسحاق خان چیئرمین سینیٹ اور مرزا اسلم بیگ وائس چیف آف اسٹاف تھے۔

بھاری اکثریت سے دوسری بار وزیرِ اعظم بننے والے نے جب صدارتی کروفر کی علامت 58 (2) بی کو ختم کیا تو اس کی بدترین مخالف پی پی پی نے اس کا ساتھ دے کر جس سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، وہ بدلتے وقت کا واضح اشارہ تھا، مگر ہماری غیر منتخب اشرافیہ اور اس کے انڈے بچے پھر بھی یہ سمجھنے کو تیار نہیں تھے۔

اب انہوں نے جبرالٹر والا کھیل کارگل کے نام کھیلا اور واجپائی کے دورہ لاہور کو قومی مفاد پر سمجھوتہ قرار دے ڈالا۔ بات مشرف کے مارشل لاء تک گئی مگر اب کی بار مارشل لاء کا نقاب اسلامی نہیں بلکہ سیکولر بنایا گیا۔ ایجنڈا بہرحال وہی تھا جس پر 5 جولائی 1977 سے غیر منتخب اشرافیہ عمل پیرا تھی۔

مزید پڑھیے: ضیاء الحق اور میرا اسکول

این جی اوز سے لے کر پیٹریاٹ و ق لیگ تک سب کو اس کام پر لگا دیا گیا اور دوسری طرف طالبان مکاؤ پراجیکٹ سے ڈالر سمیٹنے کا ایجنڈا 9/11 کے بعد سے بذریعہ دہری پالیسی جاری تھا۔ 5 جولائی 1977 سے 1999 تک تو غیر منتخب اشرافیہ پی پی پی ہی سے نبرد آزما تھی مگر اب پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں مردودِ حرم ٹھہرے، کیوں کہ قومی مفاد کے تحت دونوں کی گنجائش نہیں تھی۔ اس فرعونی جبر کی کوکھ سے میثاق جمہوریت پیدا ہوا مگر غیر منتخب اشرافیہ ہمیشہ یہ بات یاد نہیں رکھنا چاہتی کہ جہاں فرعون ہوگا وہاں موسیٰ لازم۔

جب ضیا کا اپنوں نے ساتھ نہیں دیا تھا تو پرویز مشرف کے اپنوں نے اس کا ساتھ کب دینا تھا۔ مگر ضیا اور مشرف کے منظرناموں سے ہٹائے جانے کے باوجود پرنالہ وہیں کا وہیں رہا کیوں کہ ضیا و مشرف کی باقیات ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2008 سے آج تلک وہ اس بات پر کمر بستہ ہیں کہ فیصلے منتخب ایوانوں میں نہیں ہوں گے۔

ہماری غیر منتخب اشرافیہ کے کرؔوفر کا اندازہ مارچ اور مئی 2011 میں اس وقت سب کو ہوگیا کہ جب اسامہ بن لادن کو امریکا خود ہلاک کر گیا، اور ہمیں بادلِ ناخواستہ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑنا پڑا۔ مگر اس سب کے دوران میڈیائی ناخدا جعلی قوم پرستیاں بڑھاتے رہے اور قومی حمیت و خودمختاری کی بڑھکیں لگاتے رہے۔

حالانکہ ضیا و مشرف اس کا سودا کب کا کر چکے تھے۔ سب نے دیکھا کہ ہم نے سفارتی استشنیٰ کے روایتی عزت دار راستے کے بجائے اسلامی قانون کو بنیاد بنا کر امریکی شہری کو باہر بھیجا جبکہ خود اسامہ کو پکڑنے کی بجائے امریکی مداخلت ہونے دی۔ 1971 کے المیے کی طرح، غیر منتخب اشرافیہ نے ان دونوں واقعات کا ملبہ بھی سیاستدانوں کے سر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی مگر عوام اس سب کو نہ کل مانتی تھی نہ آج۔

پڑھیے: ضیاء الحق کے سخت دور میں 'ڈسکو دیوانے' کیسے مشہور ہوا؟

5 جولائی 1977 سے 5 جولائی 2017 تک پاکستان میں اک ہی لڑائی جاری ہے کہ فیصلے کہاں ہوں گے؟ یمن کی قرارداد پر عمل پیرا اسمبلی کو خاموش کرنے کے لیے یہ کہا گیا کہ راحیل شریف کا این او سی قومی مفاد ہے۔ مگر جب سعودی امریکی اتحاد نے ٹرمپ کی آمد کے بعد طبل جنگ بجا دیا توں اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اس اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ ٹی او آر کے بعد اسمبلی ہی کرے گی۔

افغان جنگ ہو یا طالبان مکاؤ پرجیکٹ یا پھر پانامہ لیکس، عالمی ایجنڈوں سے مقامی مفاد حاصل کرنے میں ہماری غیر منتخب اشرافیہ مشاق، مگر اس کا عوامی سطح پر کیا اثر پڑتا ہے اس کی ان کو کبھی پرواہ نہیں ہوتی۔

جب 5 جولائی 1977 کو یہ سب ہوا تھا تو صدر داؤد، ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ ایران اک صفحہ پر تھے کہ ڈیورینڈ لائن کو ماننے کا اعلان سر داؤد لاہور کے شالیمار باغ میں کر چکا تھا۔ ہم کب تک عالمی ایجنڈوں سے مقامی مفاد سمٹتے رہیں گے، 5 جولائی کے دن اس سب پر اک دفعہ پھر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصلے کون کرے گا؟ قومی مفاد کیا ہے؟ فیصلوں کا فورم کیا ہے؟ 70سال بعد اب اس بارے تصفیہ ہو جانا چاہیے۔