ظفر حجازی کو چیئرمین کے عہدے سے برطرف کیے جانے کا امکان

جولائ 11 2017

ای میل

اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ظفر حجازی کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مقدمے کے اندراج کی وجہ سے وزارت خزانہ کی جانب سے انہیں عہدے سے برطرف کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم ایس ای سی پی کے ترجمان نے اس حوالے سے تصدیق نہیں کی۔

ایس ای سی پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی تک سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ رات گئے مختلف نجی ٹی وی چینلز پر یہ افواہیں گردش کررہی تھی کے ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد ظفر حجازی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

سیئنر حکام کے مطابق ایس ای سی پی کے کمشنر کی بھرتی سے متعلق ترمیمی ایکٹ کے قواعد وضوابط کے مطابق کمشنر کے کسی جرم کے مرتکب ہونے کی صورت میں انہیں عہدے سے برطرف کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس بارے میں نوٹیفکیشن، وزارت خزانہ کا انوسٹمینٹ (ونگ ) جاری کرے گا اور عارضی طور پر عہدے کا چارج ایس ای سی پی کے سیئنر ترین کمشنر طاہر محمود کو دیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے طاہر محمود 20 جولائی تک چھٹیوں پر بیرون ملک گئے ہوئے ہیں، طاہر محمود 1989 سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے منسلک ہیں۔

خیال رہے کہ بنیادی طور پر ظفر حجازی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے پیشے سے وابستہ ہیں تاہم انہوں نے 19 دسمبر 2014 کو چیئرمین ایس ای سی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔

یاد رہے ظفر حجازی 1999 سے 2009 تک بطور کمشنر کمپنی لاء اور ایڈ منسٹریشن اینڈ انفورسمنٹ ڈوثرن کے ادارے سے منسلک رہے۔

خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ظفر حجازی کے خلاف گذشتہ رات مقدمہ درج کیا گیا۔

سرکار کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں سنگین نوعیت کے الزامات شامل کیے گئے، جبکہ ظفر حجازی پر سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرکے ملزم کو فائدہ پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری عہدے پر بیٹھ پر کاغذات میں رد و بدل کیا گیا۔

واضح رہے کہ سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں ظفر حجازی کو 14 برس کی سزا ہوسکتی ہے۔


یہ رپورٹ 11 جولائی 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی