پاکستان ایشیئن ٹائیگر کیسے بن سکتا ہے؟

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2017

ای میل

ہر کچھ عرصے بعد پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی بری خواہش تو نہیں لیکن ایسا ابھی تک ہو نہیں پایا۔

نہ صرف یہ، بلکہ ہم ٹائیگر بننے کی جانب کچھ خاص بڑھتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہمیں ایک ایماندارانہ جائزے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ جاننا کہ آپ کو کہاں سے شروعات کرنی ہے، اتنا ہی ضروری ہے جتنا یہ جاننا کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں۔

چند اہم اعداد و شمار کی مدد سے آپ تین نکات قائم کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہے؛ نسبتاً پستی کی جانب گامزن ہے؛ اور پاکستان کے کئی شہری گزارے لائق یا اس سے بھی کم سطح کی معاشی زندگی گزارنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات سے اٹھ کر ایشین ٹائیگر بننے کے لیے کچھ بڑھ کر کرنا ہوگا۔

پہلا نکتہ، معاشی حالت۔ وفاقی ادارہ برائے شماریات کی ویب سائٹ کے مطابق 2015 میں موجودہ قیمتوں میں فی کس آمدن 1 لاکھ 53 ہزار 620 روپے سالانہ یا (تقریباً) 13 ہزار روپے ماہانہ تھی جو کہ موجودہ مقررہ کردہ کم سے کم اجرت بھی ہے۔

پڑھیے: اب معاشرے کو دفاع کی ضرورت ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان کی مجموعی سالانہ آمدن کو ملک کے تمام شہریوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر شہری کے حصے میں ماہانہ 13 ہزار روپے آئیں گے — چار افراد پر مشتمل گھرانے کو گزارے کے لیے ماہانہ تقریباً 50 ہزار روپے ملیں گے۔ ضروری گھریلو اخراجات کو شمار کریں تو ظاہر ہے یہ پیسے گزارے لائق ہی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان کی معاشی حالت اپنے شہریوں کے بس گزارے لائق (survival-level economy) ہی ہے۔

باآسانی حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ہم پاکستان کا موازنہ ملائشیا، جو کہ ایک ایشین ٹائیگر کا بچہ ہے، اور جنوبی کوریا، جو ایک ایشین ٹائیگر ہے، سے کر سکتے ہیں۔

اگر قوت خرید کی بات کریں تو مذکورہ دونوں ملکوں میں فی کس کے حساب سے سالانہ آمدن پاکستان سے 5 سے 7 گنا زیادہ ہے۔ دیگر لفظوں میں کہیں تو، 50 ہزار روپے حاصل کرنے والے ایک پاکستانی گھرانے کو ملائشیا یا جنوبی کوریا کے اوسط معیار کی طرز زندگی گزارنے کے لیے ڈھائی لاکھ روپے یا ساڑھے تین لاکھ روپے فی ماہ درکار ہوں گے۔

ایک گزارے لائق معیشت اور ایک ترقی یافتہ معیشت میں یہی فرق ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں کوئی حیرت نہیں کہ لوگ پاکستان چھوڑ کر ملائشیا کام کرنا تو چاہیں گے مگر کوئی بھی ملائشیا چھوڑ کر پاکستان میں کام نہیں کرنا چاہے گا۔

جنوبی کوریا جیسا ایشین ٹائیگر بننے کے لیے پاکستان کو فی کس آمدن میں 5 سے 7 گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر ایسا ہونے میں کتنا عرصہ درکار ہوگا؟ اگر معاشی ترقی کی شرح موجودہ 5 سے بڑھ کر 7 فیصد ہو جاتی ہے اور سال در سال اسی شرح کو قائم رکھا گیا تو بھی پاکستان کو موجودہ جنوبی کوریا کے مساوی حیثیت پانے کے لیے 25 سال درکار ہوں گے۔ جبکہ 15 سالوں میں وہاں تک پہنچنے کے لیے شرح ترقی 12 فیصد ہونی چاہیے جو کہ پاکستان کے لیے حاصل کرنا بڑی حد تک مشکل ہے۔

دوسرا نکتہ، جہاں پاکستانی معیشت ترقی کر رہی ہے، وہاں یہ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں نسبتاً پستی کا شکار بھی ہے۔ 1990 میں ہندوستان کی فی کس آمدن پاکستان کے مقابلے میں 40 فیصد کم تھی؛ 2009 کے آتے آتے یہ سطح مساوی ہوگئی؛ آج ہندوستان ہم سے 200 فیصد زیادہ فی کس آمدن رکھتا ہے۔ یہی صورتحال رہی تو پاکستان جلد ہی معاشی دوڑ میں باقی دنیا سے پیچھے رہ جائے گا۔

پڑھیے: تعصب اور امتیازی سلوک کا معاشی پہلو

تیسرا نکتہ، اگر آمدن مساوی طور پر دی جائے اور ہر فرد ماہانہ 13 ہزار روپے حاصل کرتا ہے تو گزارے لائق معیشت کی حقیقت سے بھاگنا مشکل ہو جائے گا۔ دراصل یہ ایک دولتمندی کا فریب ہے جو انتہائی غیر مساوی آمدن کی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، یہ تقسیم اس قدر غیر مساوی ہے کہ مجموعی قومی آمدن کا نصف حصہ صرف امیر ترین 20 فیصد گھرانوں کو جاتا ہے۔

بینکوں کے سی ای اوز کی تنخواہوں کے حوالے سے ایک تازہ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا کہ 50 لاکھ روپے ماہانہ کوئی ایسی تنخواہ نہیں جو کسی کو یا بہت کم لوگوں کو مل رہی ہو۔ جہاں چند افراد جو عالمی معیار کی اشرافیہ کی زندگی گزار رہے ہیں تو وہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو اوسط سے بھی کم معیار زندگی رکھتے ہیں تا کہ مجموعی آمدن کو مستقل رکھا جا سکے۔ بلکہ پاکستان میں موجود اکثر افراد گزارے لائق ماہانہ 13 ہزار روپے سے بھی کم حاصل کر پاتے ہیں۔

اس انتہا درجے کی عدم مساوات کو مد نظر رکھتے ہوئے آزاد اندازوں کے مطابق ملک کے نصف سے زائد افراد کو اس بنا پر بدتر حالت سے دوچار تصور کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی طرح کا غیر متوقع خرچہ انہیں غربت کا شکار بنا سکتا ہے۔ یوں صرف پاکستانی معیشت مجموعی طور پر پست سطح معیشت ہی نہیں بلکہ اکثر افراد اس گزارے لائق آمدن کی سطح سے بھی کم میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، بلکہ کہیں کہیں تو تنگدستی کا شکار ہیں۔

ایک فرد کس طرح تنگدستی میں اپنی زندگی گزار سکتا ہے؟ غیر معیاری تعلیم، کمزور صحت، بڑھتے ہوئے قرضے اور مختلف ملازمتوں کی وجہ سے اضافی کام۔ ماہانہ کم سے کم اجرت کمانے والے کسی شخص کی زندگی کو دیکھیں تو آپ پاکستانی معیشت کی اصل حالت پر داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ایک فرد کے لیے اتنی اجرت مختص کر کے ہمارے رہنما کس طرح پاکستان کو ہماری زندگیوں میں ہی ایشین ٹائیگر بنانے کا ارادہ کر سکتے ہیں؟

ہماری موجودہ بری حالت کو سمجھتے ہوئے ایک حقیقی سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ، پاکستان کا معاشی طور پر حال اتنا برا کیوں ہو گیا؟ ظاہر سی بات ہے، اس میں پاکستان کی کوئی غلطی نہیں— نہیں قسمت کا چکر ہے— بلکہ اس کے ذمہ دار سالوں سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے آ رہے افراد ہیں۔

آخر کس طرح ہم سے پیچھے رہنے والی چین اور ہندوستان کی معیشیتیں چند دہائیوں میں ہی پاکستانی معیشت سے آگے نکل گئیں؟ یا جنوبی کوریا جیسا چھوٹا سا ملک محدود قدرتی وسائل کے ساتھ بھی ترقی یافتہ ملک کس طرح بن گیا؟ آخر کس طرح ملائشیا نے اسٹریٹجک مقام پر اپنی موجودگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنی نسلی تکثریت کو بھی سنبھالا جبکہ پاکستان ایسا نہیں کر سکا؟

پڑھیے: کیا پاکستان معاشی انقلاب کے نزدیک ہے؟

اب جبکہ ہم انتخابی مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں لہٰذا ہمیں سیاسی پارٹیوں سے ان کے وژنز اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے چند کڑے سوالات پوچھنے ہوں گے۔ ہمیں آسان جوابات کے دھوکے میں نہیں آنا ہوگا۔ کرپشن ایک مناسب بہانہ نہیں؛ کرپشن ہر جگہ ہے جبکہ یہاں سے کہیں زیادہ فراڈ تو ہندوستان میں ہوتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی بھی قابل یقین وضاحت نہیں ہے کیونکہ چین اور ہندوستان کی آبادی ہم سے 6 گنا زیادہ ہے۔

ہمیں سی پیک کے وعدوں کی چمک دھمک میں نہیں آنا ہوگا۔ کیونکہ اگر اس منصوبے پر بہترین انداز سے بھی کام ہوا تو بھی زیادہ سے زیادہ ہماری قومی آمدن کی شرح ترقی میں 2.5 فیصد کا اضافہ ہوگا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی نوعیت کی اصلاحات نہیں ہوں گی۔

پاکستان کی اس بری حالت کی وجہ خراب پالیسیاں، غلط ترجیحات اور انتہائی ناگوار طرز حکمرانی ہے۔ ہم چین کے تجربے سے کچھ بہتری لا سکتے ہیں، جی ہاں اسی چین کے تجربے کی مدد سے جو تین دہائیاں قبل ہم سے پیچھے تھا، وہ اب اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ آج ہم اس سے سہارا لینے پر مجبور ہیں۔

چلیے یہ موضوع کسی دوسرے مضمون کے لیے مختص کرتے ہیں۔

یہ مضمون 25 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔