جے یو آئی کا شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دینے کا اعلان

31 جولائ 2017
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی موقف پر دھمکیاں دی جارہی ہیں—فوٹو:ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی موقف پر دھمکیاں دی جارہی ہیں—فوٹو:ڈان نیوز

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی اتحادی جماعت جمعیت علمااسلام (جے یو آئی) (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتحادیوں کا ساتھ دیتے ہوئے نئے وزیراعظم کے انتخاب میں شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔

اسلام آباد میں جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مشکل وقت میں اتحادیوں کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ووٹ دینے کے سلسلے میں جے یو آئی کو تحفظات ہیں نہ ہی شرائط پیش کررہے ہیں اور غیر مشروط حمایت کررہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کر کرپشن کے خلاف جنگ میں سیاسی سنجیدگی نظر نہیں آرہی بلکہ سیاسی جنگ لڑی جارہی ہے اور نواز شریف کے خلاف فیصلے پر دنیا میں بات ہورہی ہے۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ جے یو آئی کو سیاسی موقف پر دھمکیاں دی جارہی ہیں مگر ہم ڈرنے والے نہیں، جے یو آئی نے مردانہ وار سیاست کی ہے اور ان دھمکیوں کی کوئی پروانہ نہیں۔

جے یوآئی کے سربرا نے کہا کہ مشکل وقت میں اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دیں گے۔

مزید پڑھیں:خاقان عباسی، خورشید شاہ، شیخ رشید وزارت عظمیٰ کے اُمیدوار

آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق سے منسوب بیان کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ الحاق پاکستان تمام کشمیری جاعتوں کا انتخابات میں منشور ہوتا ہے لیکن اقوام متحدہ کی قرارداد کشمیریوں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ الحاق کا فیصلہ اپنے مرضی سے کریں۔

آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے خاتمے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ صادق اور امین کی تعریف واضح ہونی چاہیے لیکن اہم کام تو احتساب بیورو (نیب) کو ختم کرنا ہے جس کو ایک آمر نے متعارف کرادیا تھا اور اٹھارویں ترمیم میں اس کو نہیں چھیڑا گیا۔

اے این پی کا کسی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

ادھر خیبرپختوا کی ایک اور بڑی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد نئے وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اے این پی کے ترجمان سینیٹرزاہد خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن تقسیم ہے اس لیے اپوزیشن اور نہ ہی حکومت کو ووٹ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وزارت عظمیٰ کیلئے 6 اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور

خیال رہے کہ مسلم لیگ نواز نے سابق وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا تھا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ان کے خلاف متفقہ امیدوار لانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو نامزد کردیا گیا جس کےبعد پاکستان پیپلز پارٹی نے سید خورشید شاہ کو نامزد کردیا ہے جبکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں میں جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ اور ایم کیو ایم پاکستان کی کشورہ زہرا بھی شامل ہیں۔

تبصرے (1) بند ہیں

حبیب خان آل پاکستان مسلم Aug 01, 2017 04:02am
مولانا فضل الرحمن جو باتیں بنا رہی ہیں یہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ پانامہ کیس میں دونیا کے بہت سے لوگ مالوث تھے اور سب نے استعفے دے دیئے جب نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تو نواز نے صاف انکار کردیا اور اپ بھی جانتے ہیں ھم بھی اور سب جانتے ہیں کہ نواز شریف نے بڑے پیمانے پر کرپشن کیا ہے تو اس میں مولانا صاحب جھوٹے الزامات لگارہے ہیں کبھی دھمکیوں کی بات کرتے ہیں تو ھم سب کیلئے سب سے پہلے پاکیستان ہیں