سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں کے نام

اپ ڈیٹ 03 اگست 2017

ای میل

سابق وزیر اعظم کو پارلیمنٹ اور پارٹی عہدے سے تاحیات نا اہل قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں کو تنقید سے پہلے فیصلے کی واضح باریک اور تکنیکی جواز پر غور کرلینا چاہیے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ "واجب الوصول" پیسے جو کبھی وصول ہی نہیں کیے گئے ان پیسوں کو ظاہر نہ کرنے سے کسی کی ایمانداری اور اعتماد کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا۔

وہ یہ بھی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والوں کی جانب سے عائد کردہ سنگین الزامات اور وہ الزمات بھی جو جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی درج ہیں، اس فیصلے کے اندر ان الزامات کو نااہلی کی بنیاد ہی نہیں بنایا گیا اور ان کا کہیں ذکر بھی نہیں ملتا۔ اس چیز نے قانونی اور سیاسی طور پر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلا اختلافی حکم نامہ اور اب آخری اتفاقی حکم نامہ جاری کرنے سے قبل کُل تحقیقاتی مرحلہ مکمل کیوں نہیں کیا گیا؟ ایسا کہا گیا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی اور یوں فیصلے کی غیر جانبداری منفی طور پر متاثر ہو رہی ہے۔

اگر احتساب عدالت ریفرینسوں کی تحقیقات اور جائزہ لینے کے بعد وزیر اعظم پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کرتی ہے، تو کیا وہ ’تکنیکی’ خلاف ورزی کی بنیاد پر پھر بھی تاحیات نااہل رہیں گے؟ کیا تاحیات پابندی موجودہ قانون کے مطابق بھی تھی؟ اگر نہیں، تو کیا سپریم کورٹ کا فل بینچ نظرثانی کے بعد پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو واپس لے سکتا ہے؟ ایسے کسی اقدام کے سیاسی اور قانونی نظام پر کیا اثرات ہوں گے، خاص طور پر انتخابی سال میں؟

پڑھیے: اس 'تاریخی فیصلے' پر کیوں نظرِثانی کی جانی چاہیے؟

سپریم کورٹ کے فیصلے کا دفاع کرنے والوں کے مطابق، وزیر اعظم کا اعتراف کہ انہوں نے کیپیٹل ایف زیڈ ای سے 'واجب الوصول’ پیسوں کو ظاہر نہیں کیا، کوئی ’معمولی تکنیکی بات’ نہیں ہے۔ یہ 1976 کے عوامی نمائندگی ایکٹ (آر او پی اے) کی صاف طور پر خلاف ورزی ہے اور یوں آئین کی شق 62 اور 63 کی خلاف ورزی ہوئی۔ مگر یہ آئینی شقیں بھلے ہی سیاسی طور پر کتنی ہی متنازع کیوں نہ ہوں، لیکن الیکشن کمیشن پاکستان ماضی میں ان کی خلاف ورزی کرنے پر اراکین پارلیمنٹ کو برطرف کر چکا ہے۔

مزید برآں، سپریم کورٹ نے جواب دہندوں کی اس دلیل، کہ جے آئی ٹی نے اپنے اختیار سے بڑھ کر تفتیش کی چنانچہ اس کی رپورٹ کو زیر غور نہیں لایا جائے، کو مسترد کر چکی ہے۔ مگر کورٹ نے 16 درج فہرست اثاثوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جواب دہندوں، بشمول وزیر اعظم، کے خلاف ’بظاہر قابل سماعت مقدمہ’ چلانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ریفرینسوں کی تیاری کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کو زیر غور لانا ہوگا اور ریفرینسوں کو 6 ہفتوں کے اندر اندر تیار کر کے احتساب عدالت میں جمع کروانے ہوں گے۔

اس پورے مرحلے کے دوران کورٹ کی جانب سے نیب کی رہنمائی اور نگرانی کی جائے گی کیونکہ یہ ادارہ اور اس کے چیئرمین قابل بھروسہ نہیں جو، ایک جج صاحب کے مطابق، انہیں کسی چیز کی ’پرواہ نہیں‘ اور 'اپنا کردار ادا کرنا ہی نہیں چاہتے' تھے۔ نیب کی اپنے ذمہ داریوں میں کوتاہی کی وجہ سے جے آئی ٹی کا قیام ضروری ہو گیا۔ احتساب عدالت 6 ماہ کے اندر ریفرینسوں (بشمول جے آئی ٹی رپورٹ کی مشملات) کا فیصلہ کرے گی۔ اپنے فیصلے کی روشنی میں وہ چند یا تمام جواہ دہندوں کے خلاف باقاعدہ سماعت کی سفارش کر سکتی ہے۔

بات بالکل سیدھی اور صاف ہے، کورٹ نے اتفاقی طور پر فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم نہ تو ایماندار ہیں اور نہ ہی قابل بھروسہ، لہٰذا وہ فوری طور پر نااہلی مرتکب ہوئے۔ وزیر اعظم کی موجودگی میں فیصلے پر عمل در آمد متاثر ہو سکتا ہے، اس خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر مزید فائز رکھنا مناسب نہیں۔

مزید تحقیقات اور شواہد کے بغیر وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے پر جج صاحبان کے درمیان ابتدائی طور پر اختلافات تھے۔ لیکن جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی کیپیٹل ایف زیڈ ای سے تعلق اور واجب الوصول رقم کے اعتراف کے انکشاف کے بعد، اور چونکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 اور شق 62 اور 63 'معمولی تکنیکی جواز' نہیں، سو جج صاحبان کے درمیان وزیر اعظم کی نااہلی پر اختلافات ختم ہو گئے۔

مزید پڑھیے: کیا نواز شریف تاحیات نااہل ہوگئے؟

جب ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 میں پھانسی دی گئی تھی تب اسے انصاف کے ساتھ ایک عدالتی مذاق قرار دیا گیا۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل، رمسے کلارک نے بھٹو کی پھانسی کو 'عدالتی قتل' قرار دیا تھا۔ لیکن بھٹو کے کئی دشمن ہولناک انداز میں اس نتیجے پر پہنچے کہ اگرچہ انصاف کے قانونی تقاضے انہیں چھوڑ بھی دیتے، لیکن ان کے ساتھ کم از کم قدرت نے انصاف ضرور کیا کیونکہ انہیں وہی سزا ملی جس کے وہ مستحق تھے۔

نواز شریف کی عدالتی نااہلی اور بھٹو کے عدالتی قتل کے درمیان کوئی مماثلت نہیں۔ انہیں ایک کمزور، سازباز کی شکار اور تقسیم شدہ سپریم کورٹ نے ڈراؤنے فوجی غاصبوں کی ایماء پر موت کی سزا دی تھی۔ جبکہ نواز شریف کو ایک آزاد اور شفاف عدالتی عمل کے بعد صرف سیاست سے نکلنے کی ہی سزا دی گئی ہے، وہ بھی ایک ایسے فیصلے کے تحت جس پر آپ شاید اختلاف تو کر سکتے ہیں مگر کینہ پرور یا مذاق کہہ کر اس کی مذمت نہیں کر سکتے۔

اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں سے ایک نے الزام عائد کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے شیکسپیئر کے ایک کردار باسینیو کے خیال سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا جس کے مطابق ’ایک بڑے درست کام' کی خاطر ’ایک چھوٹا غلط کام' کیا جا سکتا ہے۔ دراصل، اعلیٰ عدلیہ نے کوئی بھی غلط کام کیے بغیر ایک بہت ہی بڑا درست کام کیا ہے، بھلے ہی فیصلے پر باہمی رضامندی کو یقینی بنانے کے لیے معمولی عدالتی جواز ہی کیوں نہ پیدا کیا گیا ہو، لیکن وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے آپ اس معمولی جواز کی بھی قانونی حیثیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ جواز بھلے ہی معمولی ہو لیکن اس کی قانونی حیثیت نااہلی کے لیے کافی ہے۔

مزید برآں، احتساب اور ٹرائل کورٹ کو زیادہ سنگین الزامات کے حامل ریفرنسوں کے ذریعے نااہلی، ممکن ہے اس سے بھی بدتر، کے قانونی جواز کا پر معنی انداز میں وسیع امکان موجود ہے۔ ملک کے اندر موجود طرز حکمرانی کی حالت کو فیصلے کا جواز نہیں بنایا گیا۔ نہ ہی اسے نظر انداز کیا گیا۔ بلکہ، سپریم کورٹ نے بڑے ہی محتاط انداز میں غور و فکر، دور اندیشی اور دانائی کے ساتھ اپنا کام کیا۔ اس کے باوجود بھی ہم زبردست سیاسی غیر یقینی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

جانیے: وہ منصوبے جن کا نواز شریف افتتاح نہ کرسکے

سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نے اپنے اور بھی زیادہ متنازع بھائی کو اپنا جانشین منتخب کیا ہے، اور ان کے بھائی نے اپنے بیٹے حمزہ کو اپنے جانشین کے طور پر نامزد کیا ہے! جبکہ لچکدار، جرم میں شریک، اور کرپٹ ارکانِ پارلیمنٹ سے اس خاندانی تسلسل کو برقرار رکھنے والے فیصلوں کی ربر اسٹیمپ بن کر توثیق کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بیٹے کے نام تقریباً 16 ریفرینسوں میں شامل ہیں اور سپریم کورٹ نے ان ریفرینسوں کو احتساب عدالتوں میں بھیجنے کے لیے نیب کو ہدایت جاری کی ہوئی ہے۔

دیگر تحقیقات بھی ہونا باقی ہیں جس میں سیاسی مداخلت اور ساز بازی کے لیے لائسنس موجود نہیں ہو گا۔ چنانچہ، بڑی حد تک امکان ہے کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹے بھی پارٹی اور سرکاری عہدے سے نااہل قرار دے دیے جائیں گے۔

اس کے مسلم لیگ ن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ پاکستان کی سیاست پر کون سے اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا پی ٹی آئی بغیر کچھ کیے انتخابات جیتنے کے لیے اس سنہرے موقعے کا فائدہ اٹھا سکتی ہے؟ کیا یہ اپنے کم سطحی توقعات کے جال کے ساتھ پنجاب کو ہلا کر رکھ سکتا ہے؟

سرد ہواؤں کا سلسلہ شاید کچھ عرصہ مزید جاری رہے۔ مگر صبح بہار طلوع ہونے میں زیادہ دیر نہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔