بین الاقوامی خلائی مرکز کیسے کام کرتا ہے؟

اپ ڈیٹ 28 اگست 2017

ای میل

تاریخی کتب کے مطابق ابتدائی ادوار میں انسان، جانوروں کے ساتھ جنگلوں میں رہا کرتا تھا. جب شعور و آگہی کے دروازے کھلنے شروع ہوئے تو اس کے رہن سہن کے طریقے تبدیل ہوتے گئے۔ تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہائش کے لیے پختہ گھروں کی ضرورت محسوس کی گئی اور یوں بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا ہوا انسان آج کے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوا جہاں ہر شے اسے ایک کلک پر دستیاب ہے۔

مگر اس کی ازلی فطرت اسے ہمیشہ کچھ نیا کر دکھانے پر اکساتی رہی ہے، جن میں سے ایک ’خلا کو تسخیر‘ کرنے کا دیرینہ خواب بھی تھا۔ 1969 میں اپولو الیون کی کامیاب لینڈنگ اور نیل آرم سٹرانگ کی چاند پر محدود مٹرگشت کے بعد سائنسدان شدت کے ساتھ ایک ایسے خلائی مرکز کی کمی محسوس کر رہے تھے جو نہ صرف خلا میں مناسب انسانی پہنچ پر ہو بلکہ اسے طویل عرصے تک خلائی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: خلا میں انسانی ساختہ 'بلبلے' کی دریافت

چند برس بعد پندرہ ممالک کی نمائندہ پانچ خلائی اداروں نے ملکر تقریبا سو ارب ڈالر کے ’بین الا اقوامی خلائی مرکز‘ منصوبے کا آغاز کیا جس میں امریکہ کی ’ناسا‘، روس کی ’روس کاسموس‘، یورپین ممالک کی ’ای ایس اے‘، ’کینیڈین سپیس ایجنسی‘ اور ’جاپان ایرو سپیس ایجنسی‘ شامل تھیں۔

بلاشبہ انٹر نیشنل سپیس سٹیشن انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سائنس و انجینئرنگ کا منصوبہ ہے جو دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات، سائنسدانوں اور خلا بازوں کو ارضیات، فلکیات اور ماحولیات پر تحقیق کرنے کے لیے ایک مکمل پلیٹ فارم فراہم کرتا اور ہر طرح کے جدید آلات سے پوری طرح لیس ہے۔

اس طویل المیعاد منصوبے کا با قاعدہ آغاز 1998 میں ہوا جس کے لیے زمین سے فاصلے پر نچلے درجے کے مدار ’لو ارتھ آربٹ‘ میں دو سو اڑتالیس میل، یا چار سو کلومیٹر کی بلندی پر ایک جگہ منتخب کی گئی جسے زمین سے سادہ آنکھ سے دیکھنا ممکن ہے۔

ابتدائی طور پر اس کے مختلف حصوں، جس میں لیبارٹری، بھاری مشینری اور شمسی توانائی سے چلنے والے سولر پینلز شامل تھے، کو روس کی سپیس شٹل کی مدد سے ایک ایک کر کے خلا میں لیجا کر آپس میں جوڑا گیا جبکہ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً اس کی مرمت اور تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں اور اب سولر پینلز سمیت اس کی کل جسامت ایک امریکی فٹبال کے میدان جتنی، جبکہ وزن تقریباً انتالیس ہزار کلو گرام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خلائی سفر کے بعد کیڑے کا دوسرا سر اُگ گیا

اس خلائی مرکز کے قیام کا بنیادی مقصد انسان کا خلا میں طویل عرصے تک قیام اور تحقیق سے متعلق تھا سو اسکی ڈیزائننگ میں ان تمام امور کو یکساں اہمیت دی گئی جو انسانی رہن سہن کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

رہائش کے لیے پانچ بیڈ رومز، دو باتھ رومز، ورزش کے لیے جم اور تین سو ساٹھ ڈگری پر گردش کرنے والی ایک مخصوص کھڑکی بھی ڈیزائن کی گئی جس سے زمین کا با آسانی نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن خلا میں رہائش کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کششِ ثقل کی کمی ہے، کیوں کہ زمین کے مرکز سے جتنا دور ہوتے جائیں یہ کشش بتدریج اتنی ہی کم ہوجاتی ہے جسے طبعیات کی اصطلاح میں ’مائیکرو گریویٹی‘ کم تر ثقلی قوت کہا جاتا ہے، جس کے باعث خلا بازوں کو ’بے وزنی‘ کی حالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مستقل معلق رہنے کی وجہ سے ان کا جسمانی نظام شدید متاثر ہوتا ہے۔

اس حوالے سے عام لوگوں میں کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ خلا میں کششِ ثقل نہیں ہوتی۔ نیوٹن کے قانونِ ثقل کے مطابق ’کائنات میں ہر دو اجسام کے درمیان قوت کشش موجود ہے جس کے تحت ہمارے نظام شمسی کا مرکز سورج، ملکی وے گلیکسی کے گرد، زمین سورج کے اور چاند زمین کے گرد اپنے اپنے مخصوص مداروں میں محو ِ گردش ہیں‘۔

لیکن فاصلے کی کمی بیشی براہِ راست قوتِ ثقل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ چونکہ بین الاقوامی خلائی مرکز کم درجے کے مدار پر بنایا گیا ہے اس لیئے سطح َ زمین کی نسبت وہاں کشش ِ ثقل نوے فیصد ہے، یعنی ایک خلا باز کا وزن اگر زمین پر نوے پونڈز ہے تو خلائی سٹیشن پر یہ وزن اَسی پونڈز ہوگا ۔ اب یقینا ََ بہت سے ذہنوں میں یہ سوال بیدار ہوگا کہ جب وہاں کشش ِ ثقل نوے فیصد ہے تو پھر خلا باز کیونکر بے وزنی کی حالت کا شکار ہوتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: کیا زمین جیسے نئے سیاروں پر زندگی موجود ہے؟

تو اس کا سادہ ترین جواب یہ ہے کہ خلا میں تمام اجسام کششِ ثقل کے وجہ سے کسی سہارے کے بغیر مسلسل گرتے رہنے کی کیفیت میں ہوتے ہیں لہذاٰ جسم بے وزنی کی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ اس کو مزید بہتر انداز میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر زمین پر ایک مخصوص بلندی سے ایک بھاری پتھر اور پرندے کا پر نیچے گرائے جائیں تو ہوا پر کے گرنے کی رفتار کو سست کر دے گی، جبکہ پتھر تیزی سے نیچے جا گرے گا۔

لیکن اگر یہی تجربہ ’ویکیوم‘ ایسی جگہ جہاں ہوا کا گزر نہ ہو یا خلا میں کیا جائے تو پتھر اور پرندے کا پر ہوا کی غیر موجودگی کے باعث کسی سہارے کے بغیر ایک ہی تناسب سے گریں گے۔ عموما ََ کثیر المنزلہ عمارات میں لفٹ سے نیچے جاتے ہوئے اس بے وزنی کی کیفیت یا فری فال کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی میڈیم ’واسطہ‘ کی غیر موجودگی میں تمام اجسام یکساں رفتار اور ایک ہی گردشی اثر کے ساتھ گرتے ہیں۔

اب ایک اور سوال دماغ کے در کھٹکھٹاتا ہے کہ اگر خلائی سٹیشن پر کششِ ثقل موجود ہے تو یہ دیگر اجسام کی طرح زمین پر کیوں نہیں آگرتا؟ طبعیات کی اصطلاح میں اس کیفیت کو ’فالنگ اراؤنڈ‘ مسلسل گرنے کی کیفیت یا معلق ہوجانا کہا جاتا ہے۔ یعنی کششِ ثقل اسے زمین کی جانب کھینچتی ہے مگر وہ خود سترہ ہزار پانچ سو میل فی گھنٹہ کی تیز رفتار سے زمین کے گرد مدار میں اپنا ایک چکر نوے منٹ میں مکمل کرتا ہے، اتنی تیز رفتار کے باعث وہ نیچے آگرنے کے بجائے معلق حالت میں گھومتا رہتا ہے۔

اس امر کو اس مثال کی مدد سے زیادہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر آپ بالٹی میں پانی لیکر اسے بہت تیز رفتار کے ساتھ دائرے میں گھمائیں تو مسلسل گھومتے رہنے کے دوران بالٹی سے پانی نہیں گرے گا لیکن اگر آپ اس کو گھمانے کے بجائے ایک دم الٹا کر دیں تو لازمی سارا پانی ایک ساتھ آپ کے اوپر گرے گا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال زمین کے گرد محوِ گردش چاند کی بھی ہے جہاں کشش ِ ثقل کے باعث اجسام کے گرنے کی رفتار زمین کی نسبت چھ گنا کم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دسمبر میں دنیا کا خاتمہ نہیں ہورہا، ناساط

ابتدا میں بین الاقوامی خلائی مرکز میں دو سے تین خلابازوں کے چار سے چھ ماہ قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جہاں انھیں مستقبل کے ’مریخ مشن‘ کے لیئے دن رات تحقیق کرنی تھی کیوں کہ مریخ تک رسائی کے طویل سفر کے لیئے بھی انہی کیفیات کا سامنا کرنا تھا اور خلائی سٹیشن کی مدار میں واقع آربیٹل لیبارٹری کم تر کشش ثقل پر تجربات کے لیئے نہایت موزوں ترین جگہ تھی۔

برس ہا برس سے یہاں جو تجربات کیئے جاتے رہے ہیں ان میں سب سے اہم ’آگ کا عمل‘ تھا، یہ مشاہدہ کیا گیا کہ خلا میں آگ کا شعلہ زمین کی نسبت قدرے پھیلا ہوا اور نیلے رنگ کا ہوتا ہے جبکہ اسے جلانے اور جلائے رکھنے کے لیئے زیادہ درجۂ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خلا میں بے وزنی کی کیفیت کے باعث درجۂ حرارت بڑھنے سے نہ تو گرم ہوا اوپر کی طرف اٹھتی ہے اور نا ہی ارد گرد سے ٹھنڈی ہوا اس کی جگہ لینے کے لیئے نیچے جاتی ہے اس وجہ سے شعلہ اوپر اٹھ کر زمینی شعلے کی طرح لمبوتری شکل کا ہونے کے بجائے قدرے پھیلا ہوا ’کرے‘ کی شکل کا ہوتا ہے جبکہ اس کا نیلا رنگ زیادہ درجۂ حرارت کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی خلا میں آگ لگنے کا عمل زمین کی نسبت الٹ ہوگا۔

اس کے علاوہ مائیکرو گریویٹی میں کیئے جانے والے مزید تجربات میں قابل ذکر حیاتیات، ایسٹرو بایولوجی (فلکیاتی حیاتیات) اور زمین پر رونما ہونی والی ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان کے ذریعے خلا میں خلیات کی اشکال اور بافتوں (ٹشوز) کے بڑھوتری کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملی جو آگ کی طرح خلا میں بھی بلکل متضاد طریقے سے نمو پاتے ہیں۔ خلا میں طویل عرصے تک قیام کے دوران خلابازوں کے جسمانی نظام، پٹھوں اور جوڑوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر بھی بھرپور تحقیق کی جاتی رہی ہیں، بے وزنی کی کیفیت کے باعث نیند کی کمی، نظام ِ انہضام میں پیچیدگیاں، سر چکرانا، دماغی دباؤ اور انتشار کی علامات خلا بازوں میں بہت عام دیکھی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: خلا میں زیادہ عرصے تک رہنے والی دنیا کی پہلی خاتون

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے چند برس قبل ناسا نے یہاں مصنوعی کششِ چقل پیدا کرنے کا انتظام کیا تاکہ خلابازوں کی صحت کو لاحق خطرات کو کم کیا جاسکے۔ خلائی سٹیشن کے چند مخصوص چیمبرز کو ان کے ایکسز (مرکز) کے گرد مسلسل گھمائے رکھنے کا بندوبست کیا گیا، جس میں رفتار اور ایکسز سے فاصلے کو گھٹا یا بڑھا کر گردشی اثر کو حسب ِ ضرورت کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ مصنوعی کششِ ثقل، مرکز مائل قوت ہے مگر ایسا نہیں، زمین کی کشش تو پہلے ہی اجسام کو اس کے مرکز کی طرف کھینچ رہی ہے جس کی وجہ سے وہ خلا میں فری فال کی کیفیت کا شکار ہیں اسے ختم کرنے کے لیئے ایک مرکز گریز قوت کی ضرورت تھی جو ایکسز کے گرد گردش سے پیدا کی گئی اور اس نے خلا بازوں کو سہارا یا اپنی جگہ ٹکے رہنے میں مدد دی۔

اسی کے باعث بین الاقوامی خلائی مرکز میں طویل عرصے تک قیام ممکن ہوا ہے اور گزشتہ برس امریکی خلا باز ’سکاٹ کیلی‘ پورا ایک سال وہاں کامیابی سے گزار کر زمین پر لوٹے ہیں اور تب سے ان کے جسمانی انظام پر بھرپور تحقیق جاری ہے تاکہ مستقبل کے مارس مشن کے لیئے مکمل تیاریاں کی جاسکیں، کیوں کہ ناسا 2030 تک مریخ پر انسان کو بھیجنے کے منصوبے کا باقاعدہ اعلان کر چکا ہے۔

نومبر 2000 سے اب تک بین الاقوامی خلائی مرکز پرتحقیقاتی ضروریات کے مطابق مسلسل تبدیلیاں اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور ناسا کے منصوبوں کے مطابق اسے 2020 تک فعال رکھا جانا تھا مگر کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس مدت کو بڑھا کر اب 2024 کر دیا گیا ہے۔ حال ہی میں پانچوں سپیس ایجنسیز نے متفقہ طور پر اس عہد کی تجدید کی ہے کہ خلا کو تسخیر کرنے کی انسان سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔


صادقہ خان بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں اور اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ سائنس اور سائنس فکشن ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔