آئی جی سندھ سے لاپتہ افراد کا 2 سالہ ریکارڈ طلب

اپ ڈیٹ 23 اگست 2017

ای میل

حیدرآباد: سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ کے ڈویژن بینچ نے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ کو گذشتہ 2 سال کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد اور نامعلوم لاشوں کی تفصیلات مرتب کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس فہیم احمد صدیقی پر مشتمل بینچ نے ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔

یہ درخواست ایک ایسے شخص نے دائر کی تھی جس کے والد کو 16 جون 2014 کو پولیس اور سی آئی اے کی مشترکہ ٹیم مبینہ طور پر حراست میں لیا اور ساتھ لے گئی تھی۔

معاذ اللہ نامی شخص کے بیٹے حسن شاہ نے اس حوالے سے ایڈووکیٹ اسلم پرویز کے ذریعے آئینی درخواست جمع کرائی جس میں اپنے والد کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔

درخواست گزار حسن شاہ کے مطابق ہٹری پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھنے والے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے سی آئی اے حیدرآباد کے انچارج اسلم لانگھا کی نگرانی میں ان کے والد اور 5 دیگر افراد کو جون 2014 میں حراست میں لیا جن میں سے 3 افراد کو فوری طور پر رہا کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کیس: ایس ایس پی کی گرفتاری کا حکم

تاہم ساتھ لے جائے گئے دیگر 2 افراد کو 45 دن بعد رہا کیا گیا تاہم ان کے والد اب تک واپس نہیں آئے۔

حسن شاہ کے مطابق پولیس نے ان کے والد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جبکہ رشتے داروں اور ان کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ والد کو جب لے جایا گیا اس وقت ان کے پاس موبائل فون موجود تھا تاہم بعد ازاں اس پر فون کرنے کی صورت میں کسی نامعلوم شخص نے کال وصول کی۔

واضح رہے پٹیشن کی گذشتہ سماعت میں عدالت نے تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

پیر (21 اگست) کے روز جے آئی ٹی نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اللہ بچایو سومرو کے ذریعے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تاہم عدالت نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرنے والے ایس ایس پی حیدرآباد کو پیش ہونے اور لاپتہ شخص کی مکمل تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت دی۔

جے آئی ٹی کی تحقیقات

7 رکنی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اغواء برائے تاوان، ذاتی دشمنی کی وجہ سے رونما ہونے والے اغواء کے واقعات اور جبری گمشدگیوں کو شامل نہیں کیا۔

اس تحقیقاتی ٹیم کے تین اجلاس (پہلا 21 مارچ، دوسرا 18 مئی اور تیسرا 6 جون 2017) ہوئے جس میں اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ لاپتہ شخص ’اپنی مرضی سے غائب ہوا‘ جبکہ اغوا اور جبری گمشدگی کا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ لاپتہ شخص کا کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی تنظیم سے تعلق تھا۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد کی کہانی کا دوسرا رخ

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار اور رشتے داروں نے کسی مخصوص شخص کے خلاف اغواء کے الزامات نہیں لگائے لہذا اس مقدمے کے مجرمان نامعلوم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کی گمشدگی کو تین سال ہوچکے ہیں تاہم تاوان کے مطالبے کے لیے کوئی فون کال بھی موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی معاذاللہ کی گمشدگی کے پیچھے ذاتی دشمنی کی وجوہات سامنے آئیں۔

علاوہ ازیں جے آئی ٹی نے متعلقہ ایس ایچ او کو اخبار میں گمشدگی کا اشتہار دینے اور معاذ اللہ کی تلاش کے لیے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کرنے کی ہدایت بھی دیں۔

جے آئی ٹی کی مذکورہ رپورٹ پر عدالت کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کے خیال کی بنیاد کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے اور یہ کہنا کہ شخص اپنی مرضی سے لاپتہ ہوا بادی النظر میں درست نہیں۔