• KHI: Partly Cloudy 30.2°C
  • LHR: Partly Cloudy 34.6°C
  • ISB: Rain 26.1°C
  • KHI: Partly Cloudy 30.2°C
  • LHR: Partly Cloudy 34.6°C
  • ISB: Rain 26.1°C

نظرثانی درخواستوں کی سماعت مؤخر کرنے کیلئے نوازشریف کی نئی پٹیشن

شائع September 10, 2017 اپ ڈیٹ September 10, 2017 01:09pm

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کی سنوائی مؤخر کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اور پٹیشن دائر کردی۔

نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کی توسط سے یہ درخواست ہفتہ 9 ستمبر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔

اپنی نئی پٹیشن میں نواز شریف نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ نظر ثانی کی اپیلوں پر سماعت سے قبل قانونی سوالنامہ تیار کیا جائے کہ کیا سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ 28 جولائی کو پاناما پیپرز کیس میں حتمی فیصلہ سنانے کا مجاز تھا؟

نواز شریف، ان کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے رواں برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت عظمیٰ میں ایک جیسی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کافیصلے سے گاڈ فادر کے جملے حذف کرنے کیلئے اپیل پرغور

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو ہدایات جاری کی تھیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے بیٹے حسن نواز، حسین نواز اور وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز دائر کیے جائیں۔

ادھر نواز شریف کی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے 2 جج صاحبان جنہوں نے انہیں رواں برس 20 اپریل کو پاناما پیپرز کیس کے عبوری فیصلے میں نااہل قرار دیا تھا وہ 28 جولائی کے فیصلے میں بھی دستخط کنندہ ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پانچ رکنی بینچ کے پاس 28 جولائی کا فیصلہ سنانے کا دائرہ اختیار نہیں، لہٰذا اس کیس کا حتمی فیصلہ صرف تین رکنی بینچ کر سکتا ہے جس نے پاناما پیپرز کیس کی مزید تفتیش کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما فیصلے پر نظر ثانی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ رواں ماہ 12 ستمبر کو پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

نواز شریف کے لندن قیام میں توسیع کا فیصلہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی سرجری اور میڈیکل رپورٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ مزید کچھ روز تک لندن میں قیام کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق بیگم کلثوم نواز کو گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور دو مرتبہ ان کی سرجری کی گئی، اور اس موقع پر نواز شریف، ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز بھی ہسپتال میں موجود تھے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے ترجمان نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کی سرجری کامیاب ہو چکی ہے اور نواز شریف 10 ستمبر کو پاکستان واپس آجائیں گے اور خیبر پختونخوا سے عوامی رابطہ مہم کے دوسرے دور کا آغاز کریں گے۔

تاہم بیگم کلثوم نواز کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی کہ انہیں اپنی پہلی سرجری سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، جس کے بعد نواز شریف نے لندن میں مزید قیام کا فیصلہ کرلیا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے بچوں، داماد نے بھی پاناما فیصلہ چیلنج کردیا

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاید عباسی نے ڈان کو بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی صحتیابی کے فوراً بعد نواز شریف وطن واپس آجائیں گے۔

خیال رہے کہ نواز شریف کے لندن جانے کے بعد یہ افواہیں سامنے آرہی تھیں کہ نواز شریف نیب ریفرنسز سے بچنے کے لیے ملک سے باہر جارہے ہیں اور شاید واپس نہ آئیں۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن میں موجود ہیں اور انہیں بھی 9 ستمبر کو پاکستان واپس آنا تھا، تاہم انہوں نے بھی بیگم کلثوم نواز کی پریشان کُن میڈیکل رپورٹس کے بعد لندن میں قیام کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

ادھر حکومتِ پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے صحت سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن میں مزید کچھ روز قیام کا فیصلہ کیا۔


یہ خبر 10 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

کارٹون

کارٹون : 17 اپریل 2026
کارٹون : 16 اپریل 2026