سپریم کورٹ میں پولیس افسران کی تعیناتی کے حوالے سے زیرالتوا مقدمے کے باوجود فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے امیراحمد شیخ کو سندھ زون کے نئے ڈائریکٹر بنانے کا اعلان کردیا۔

امیر شیخ کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریفک سندھ کے گزشتہ عہدے سے ایف آئی اے بھیج دیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے قواعد کے مطابق اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کو امیر شیخ کی تعیناتی کے لیے درخواست بھیج چکے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) اور دیگر اداروں سے ایف آئی اے میں تبادلوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اس حوالے سے مقدمہ زیر التوا ہے۔

سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جولائی 2016 میں ایف آئی اے کے افسر کامران عطااللہ اور دیگر کی درخواست پر ازخود نوٹس لے کر سماعت کا آغاز کیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے ایک خصوصی تفتیشی ادارہ ہے جو ٹیکنیکل اور وائٹ کالر جرائم کی تفتیش کرتا ہے جبکہ تجربہ کار اور سرکاری طور پر تربیت یافہ افسران متعلقہ جرائم کے مطابق تفتیش کرتے ہیں۔

ایف آئی اے افسران نے درخواست میں وزارت داخلہ کو سول سرونٹ (تعیناتی، ترقی اور تبادلے) کے 1973 کے قوانین کی شق 3(2) کے تحت حاصل اختیارات جس کو 2 جنوری 2015 کو گزیٹ آف پاکستان اکسٹراوڈنری میں قائم کیے گئے قانون کے مطابق ادارے میں مختلف عہدوں پر تعیناتی کے حوالے سے اہلیت اور دیگر شرائط کی وضاحت کی ہے۔

درخواست گزاروں نے یہ موقف رکھا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 2011 میں پی ایس پی کے تربیت یافتہ افسران کے تبادلے اور تعیناتی کے حوالے سے جاری کی گئی ہدایات کی حکم عدولی کی گئی اور اسی وجہ سے ان کے اور ایف آئی اے کے دیگر افسران کے کیریئر کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بنیادی انصاف کے قانون اور اصولوں کے خلاف ہے جو درخواست گزاروں کے کیریئر کو شدید نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔

ازخود نوٹس کے جواب میں وفاقی حکومت نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے تبادلوں سے ایف آئی اے کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ایس پی کیڈرز کے برخلاف پی ایس پی افسران کے تبادلوں سے ایف آئی اے کے افسران کی ترقی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کی حکم عدولی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 18 سے 22 کے بینادی اسکیل کےحامل پی ایس پی کیڈر کی تعیناتی ایک خاص مدت کے لیے ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ تاحال عدالت میں موجود ہے اور اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔