اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں 25 ستمبر کو دوبارہ طلب کرلیا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سابق بانی رکن اکبر ایس بابر نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی تھی۔

الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تاہم پی ٹی آئی چیئرمین کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

مزید پڑھیں: توہین عدالت کیس: عمران خان 14 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب

توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور کمیشن کو بتایا کہ عمران خان کی الیکشن کمیشن کے خلاف دائر پٹیش کی سماعت ہائی کورٹ میں ہونی ہے اور ہائی کورٹ کا لارجر بینچ اس کی سماعت کرے گا۔

جس پر چیف الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ میں آج ہی سماعت ہونی ہے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے لارجر بینچ بنا دیا ہے جو آج سماعت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں، جب کہیں گے عمران خان کمیشن میں حاضر ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بیرون ملک تھے اور ایک گھنٹہ پہلے ہی وطن واپس پہنچے ہیں۔

اس موقع پر رکن الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایک شخص کو ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا ہے اور جب طلب کیا گیا تھا تو الیکشن کمیشن میں پیش ہونا چاہیے تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی اگر عمران خان اداروں کا احترام کرتے ہیں تو انہیں یہاں ہونا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ

انہوں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ کمیشن قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھائے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور ساتھ ہی عمران خان کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 14 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا جبکہ کمیشن نے گذشتہ ہفتے عمران خان کو توہین عدالت کیس میں ایک اور شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کے سابق بانی رکن اکبر ایس بابر نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی تھی، انہوں نے نومبر 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ لینے کے معاملے پر بھی ایک درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کر رکھی ہے۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن کے توہین عدالت کی سماعت کے اختیار کو چیلنج کیا تھا اور ان کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے کارروائی کے اختیارات پر سوال اٹھائے تھے۔

تاہم الیکشن کمیشن نے 10 اگست کو یہ واضح کیا تھا کہ اسے توہین عدالت کے کیس کی سماعت کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

کمیشن نے بعد ازاں اس حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 23 اگست تک جواب طلب کیا تھا۔