کراچی: سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 6 ماہ کے دوران پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو معطل کرنے کی درخواستوں میں دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے 30 جون کے درمیان حکومت کی جانب سے 24 ٹوئٹر اکاؤنٹس کو معطل کرنے کی درخواست دی گئی جبکہ 80 سے زائد اکاؤنٹس کو رپورٹ کیا گیا، جن پر تعمیل کی شرح صفر رہی۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی نگہت داد کے مطابق رواں سال کے آغاز میں چند بلاگرز کے لاپتہ ہونے کے بعد سے ٹوئٹر سمیت دیگر سماجی روابط کی ویب سائٹس کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’کئی افراد نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ پر انہیں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے نوٹس موصول ہوئے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سمیت امریکا، روس اور ترکی کی پیش کردہ بری مثالوں پر عمل کررہا ہے۔

اس رپورٹ میں ٹوئٹر کو موصول ہونے والی درخواستوں پر روشنی ڈالی گئی ہیں جن میں کاپی رائٹس اور ای میل کی پرائیوسی سے جڑے معاملات کی درخواستیں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردوں سے منسلک 3 لاکھ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آیا ویب سائٹ نے ان درخواستوں کے خلاف کوئی ایکشن لیا یا نہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں سال جنوری سے جون کے دوران بھارتی عدالت نے 2 ٹوئٹر اکاؤنٹس کو معطل کرنے کی درخواست کی جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی ان درخواستوں کی تعداد 100 سے زائد تھی۔

واضح رہے کہ پاکستانی عدالت کی جانب سے کسی ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بند کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب دونوں ممالک کی جانب سے اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے دی جانے والی درخواستوں کا تقابل کریں تو گذشتہ سال بھارتی عدالت نے ایک اکاؤنٹ جبکہ حکومت اور ایجنسیوں نے 96 اکاؤنٹس بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا، بھارت کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی تعداد 295 تھی۔

پاکستانی حکومت اور ایجنسیوں نے گذشتہ سال 13 اکاؤنٹس معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ 19 اکاؤنٹس کو رپورٹ کیا گیا تھا،جن میں کوئی بھی عدالتی درخواست شامل نہیں تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال ٹوئٹر اکاؤنٹس بند کرنے کے سب سے زیادہ 715 عدالتی احکامات ترکی نے جاری کیے جبکہ ترک حکومت نے 1995 اکاؤنٹس معطل کرنے کی درخواست کی۔

اس فہرست میں دوسرے درجے پر روس(1213) جبکہ تیسرے پر فرانس(1038) رہا۔

سب سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی بالترتیب ترکی، روس اور فرانس کی جانب سے سے رپورٹ کیے گئے۔


یہ خبر 25 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔