دانتوں میں چھپی بیماریوں کی علامات

30 ستمبر 2017

ای میل

دانتوں میں چھپی بیماریاں کبھی کبھی بڑی بیماریوں کا روپ بھی لے لیتی ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
دانتوں میں چھپی بیماریاں کبھی کبھی بڑی بیماریوں کا روپ بھی لے لیتی ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

ذیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ دانتوں کے مسائل اور بیماریوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتے، حتیٰ کہ دانتوں میں پیدا ہونے والی بیماریاں دیگر کئے خطرات کی علامات ہوتی ہیں۔

دانتوں کی صحت سے متعلق لاپرواہی کا معاملہ صرف پاکستان جیسے ممالک تک محدود نہیں، اس حوالے سے امریکی و یورپی لوگ بھی سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکا بھر میں ایک کروڑ افراد سال میں ایک بار بھی ڈینٹسٹ کے پاس نہیں جاتے، جس وجہ سے وہ دانتوں کی کئی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دانتوں کو جگمگائیں ان 11 طریقوں سے

ڈینٹسٹ کے مطابق ہر شخص کو سالانہ کم سے کم 2 بار اپنے دانتوں کا معائنہ ضرور کرانا چاہیے، تاہم اگر کوئی یہ بھی نہیں کرتا تو وہ اپنے دانتوں میں تھوڑا بھی مسئلہ ہونے کے بعد اپنے ڈینٹسٹ سے لازمی رجوع کرے۔

ڈیٹسٹ کہتے ہیں کہ دانتوں میں چھپی بعض بیماریاں صرف دانتوں تک محدود نہیں رہتی، یہ دل کے امراض سمیت ذیابیطس اور کینسر جیسی بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دانتوں میں چھپی بیماریاں پہنچاننا مشکل ہے، تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ دانتوں کی بیماریوں کی علامات انتہائی آسان ہیں۔

اگرکسی بھی شخص میں درج ذیل علامات ہیں تو اسے گھریلو ٹوٹکوں اور سنی سنائی باتوں کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ڈینٹسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: دانتوں سے اکثر خون نکلنا ذیابیطس کی علامت؟

مسوڑوں میں سوجن یا ان سے خون بہنا

ٹوتھ برش کرتے وقت ہمیشہ خون بہنا

برش کرنے، بات چیت کرنے یا کھانے کے دوران کانوں میں درد کا ہونا

آواز کا بیٹھ جانا

جبڑے کی سوجن

گلے اور زبان کا سن ہوجانا

جبڑے اور زبان کا ٹکرانا

سانس کا بدبودار ہوجانا

ٹھنڈے پانی یا مشروب پیتے وقت تکلیف ہونا

گرم چائے پیتے یا کھانے کھاتے وقت تکلیف ہونا

دانتوں اور منہ میں درد کا رہنا

ماہرین کے مطابق مندرجہ بالا علامات کو نظر انداز کرنا کسی بھی شخص کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے ایسی شکایات کے بعد جلد سے جلد ڈینٹسٹ سے رجوع کیا جائے۔