نااہلی کے بعد نوازشریف ایک بار پھر مسلم لیگ کے صدر منتخب

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2017

سابق وزیراعظم نواز شریف ایک مرتبہ پھر بلامقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہوگئے، جس کا باضابطہ اعلان پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر سینیٹر چوہدری جعفر اقبال نے کیا۔

الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے پارٹی رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تاہم ان کے مدمقابل پارٹی کے کسی بھی دوسرے رکن کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے گئے۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس کے دوران پارٹیکے چیف الیکشن کمشنر سینیٹر چوہدری جعفر اقبال کی جانب سے پارٹی صدر کے باضابطہ اعلان کے بعد نواز شریف کے حق میں پارٹی کارکنان کی جانب سے نعرے لگائے گئے۔

پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد نواز شریف نے اسلام آباد کنونشن میں پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بار بار سیاست سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن آپ لوگ مجھے سیاست میں واپس لاتے رہے اور آج بھی آپ نے مجھے سیاست میں لانے کی جو کوشش کی اس پر میں آپ کا شکر گزار ہوں‘۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کے دن ہم یہ قانون اُس ڈکٹیٹر مشرف کو واپس لوٹا رہے ہیں جس نے نواز شریف کو روکنے کے لیے اسے نافذ کیا تھا‘۔

اس سے قبل کنونشن سینٹر میں خطاب کے دوران وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ کا (28 جولائی کا) فیصلہ قبول کیا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فیصلوں کو عوام اور تاریخ نے کبھی قبول نہیں کیا'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جون 2018 کے عام انتخابات میں پاکستانی عوام نواز شریف کو ہی وزیراعظم منتخب کریں گے۔

وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جاری رہنے والے تمام منصوبوں کو مکمل کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چار سالوں کے دوران نواز شریف کے دورِ اقتدار میں جتنے کام ہوئے ہیں اتنے پیپلز پارٹی پاکستان (پی پی پی) اور سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں ہوئے۔

وزیراعظم سے قبل کنونشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ تمام تر نامساعد حالات ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے نواز شریف کو چاروں صوبوں کی تائید سے دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کیا۔

انتخابی اصلاحاتی بل 2017 پر اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جب 1999 میں اقتدار پر شب خون مارا گیا تھا اور بعد میں ملک کے آئین میں ترمیم کی گئی تھی، اُس وقت کسی نے کچھ نہیں کہا اور اب آئینی ترمیم پر اعتراض کیا جارہا ہے جو منتخب نمائندوں کی اسمبلی نے کی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں اور طویل دھرنوں کے باوجود میاں نواز شریف کی حکومت نے جو 2013 کی الیکشن مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے۔

جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ قومی اسمبلی نے اُس کالے قانون کو ختم کر دیا جسے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے لیے جدید معیشت کی بنیاد رکھنی ہے جبکہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی سے ہی دفاع اورمعیشت مضبوط ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ہمیشہ اصولوں پر قائم رہے اس لیے ہمیں ان پر اعتماد ہے، انہوں نے کہا، 'آپ آج پارٹی کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور مستقبل میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنیں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنا ہوگا اور عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے والی قوموں نے ہی موجودہ دور میں ترقی کی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نواز شریف صرف مسلم لیگ (ن) کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیڈر ہیں اور آئینی ترمیم ایک نواز شریف کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہے۔

اس سے قبل کنونشن سینٹر میں لیگی کارکنوں کے وی آئی پی دروازے سے داخلے کی کوشش کے دوران ہونے والی دھکم پیل کے نتیجے میں دروازے کے شیشے ٹوٹنے سے اسپیشل برانچ کے سب انسپکٹر لیاقت زخمی ہوگئے تھے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

نواز شریف کی نااہلی اور بعد کی صورتحال

رواں برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کو پارٹی کا نیا صدر منتخب کرکے کمیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کو نیا پارٹی صدر منتخب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت نااہل شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے بعد حکمراں جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر سردار یعقوب کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کیا گیا تھا۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرنے کے سلسلے میں ایک رکاوٹ کا سامنا تھا، جس کے لیے انتخابی اصلاحاتی بل 2017 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے تحت نااہل شخص بھی پارٹی کا صدر منتخب ہوسکتا ہے۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ترمیم پیش کی کہ جو شخص اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا جس کے بعد بل پر ووٹنگ ہوئی۔

حکومت نے محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق 203 میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کردی۔

مذکورہ بل کی منظوری کے بعد آرٹیکل 62 اور 63 کی وجہ سے نااہل ہونے والا شخص بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل ہوگا۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو باآسانی مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ صدر منتخب کرنے لیے پارٹی آئین میں بھی ترمیم کردی گئی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے دفعہ 120 کو ختم کردیا۔

ترمیم کے بعد پارٹی عہدیدار کے لیے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترنے کی شق ختم ہوگئی، جبکہ اب سزا یافتہ شخص بھی پارٹی کا صدر یا کوئی بھی عہدہ رکھ سکے گا۔

ن لیگ کا انتخابی نشان بحال

نواز شریف کے مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی کا انتخابی نشان بھی بحال کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 45 روز کی مدت میں پارٹی کا صدر منتخب نہ کرنے پر احسن اقبال کو بطور قائم مقام سیکریٹری جنرل نوٹس جاری کیا تھا جس کے بعد مسلم لیگ ن کا انتخابی نشان بھی روک لیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

nersingh das Oct 03, 2017 10:31am
Its enough for the all pakistanis , i think now its clear that every thing is possible for the govt to do any thing they can also change the "Pakistani Aaen".