وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں آپریشن کے دوران پاک فوج نے پانچ غیر ملکی مغویوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے بازیاب کرالیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق پاک فوج نے 5 غیرملکی مغویوں کو دہشت گردوں سے بازیاب کرالیا، جن میں ایک کینیڈین، اس کی امریکی نژاد بیوی اور3 بچے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پانچوں مغویوں کو 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا اور انھیں امریکا کے ساتھ ہونے والی انٹیلی جنس شیئرنگ کے بعد کرم ایجنسی سے بازیاب کرایا گیا۔

مزید پڑھیں: طالبان کی حراست میں کینیڈین جوڑے کے ہاں بچوں کی پیدائش

آئی ایس پی آر نے جاری بیان میں کہا کہ مغویوں کو افغانستان سے پاکستان منتقل کیا جارہا تھا جبکہ بازیاب کرائے جانے والے تمام مغویوں کو متعلقہ ممالک منتقل کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں بازیاب کرائے گئے غیر ملکی جوڑے کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ وہی جوڑا ہے جس کی ویڈیو 21 دسمبر 2016 کو طالبان کی جانب سے نشر کی گئی تھی۔

اس موقع پر طالبان کے ایک سینئر رہنما نے ایک ایسے کینیڈین جوڑے کی ویڈیو جاری کرنے کی تصدیق کی جن کے ہاں دوران حراست دو بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔

مذکورہ ویڈیو میں پہلی مرتبہ کینیڈین شہری جوشوا بوئلے اور امریکی شہری کیٹلان کولمن کے دو بچوں کو دیکھا گیا۔

31 سالہ کیٹلان کولمن 2012 میں افغانستان سے واپسی پر حمل سے تھیں جب انھیں ان کے شوہر کے ہمراہ اغوا کرلیا گیا۔

طالبان کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں کولمن نے ان کے اس ڈراؤنے خواب کو ختم کرنے کی درخواست کی اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

طالبان کی حراست میں موجود خاتون کا کہنا تھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں جانب سے ہمیں نفرت کا سامنا ہے اور ان مسائل میں ہمارے دونوں بچ جانے والے بچے ہمارے ساتھ ہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'لیکن ہم صرف کہہ سکتے ہیں اور دعا کرسکتے ہیں کہ کوئی تو ان افراد کے مظالم پر توجہ کرے گا جو یہ ہم پر کرتے ہیں، جسے یہ نام نہاد جوابی کارروائی کہتے ہیں'۔

ویڈیو میں دیکھے جانے والے دونوں بچے بظاہر تندرست نظر آرہے تھے، ان کی ولدہ کا کہنا تھا کہ 'ان بچوں نے اپنی ماں کو صرف آلودہ دیکھا ہے'۔