بھارت: پولیس افسران نے ریپ کا شکار طالبہ کا ’مذاق‘ بنا ڈالا

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2017

ای میل

بھارت میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی مدد سے انکار کرنے، اس کا مذاق اڑانے اور من گھڑت کہانی بنانے کا الزام لگانے والے 4 پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 19 طالبہ نے وسطی بھارتی شہر بھوپال کے ریلوے اسٹیشن کے باہر چار مردوں کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس سے رجوع کیا تھا۔

بھوپال کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس سنتوش کمار سنگھ نے کہا کہ بعد ازاں متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ نے پولیس پر ان کا ’مذاق‘ اڑانے اور شکایت درج کرنے سے انکار کا الزام لگایا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران نے متاثرہ خاتون پر بھارتی انگریزی الفاظ فلمی صنعت سے اخذ کی گئی ’فلمی کہانی‘ سنانے کا الزام لگایا۔

سنتوش کمار سنگھ نے بتایا کہ ’فرائض سے غفلت برتنے اور بدسلوکی پر تین انسپیکٹر رینک کے افسران کو معطل اور ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔‘

پولیس نے افسران کی بدسلوکی اور متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ کی طرف سے شکایت درج کرانے کے لیے تین پولیس تھانوں کا چکر کاٹنے کے دعوے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: 7 سالہ بچی کے ریپ کا ملزم پولیس اہلکار گرفتار

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کے والدین نے خود ہی کوشش کرکے دو مشتبہ ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، تیسرے ملزم کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا جبکہ چوتھا تاحال فرار ہے۔

بھوپال، ریاست مدھیا پردیش کا دارالحکومت ہے جہاں 2015 میں زیادتی کے 4 ہزار 500 کے لگ بھگ کیسز رجسٹر ہوئے تھے، جو کسی بھی بھارتی ریاست میں ریپ کے رپورٹ ہونے والے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

بھارت کا جنسی تشدد کا خوفناک ریکارڈ

بھارتی حکومت کے دیٹا کے مطابق 2015 میں ریپ کے 34 ہزار 651 کیسز ریکارڈ کیے گئے، تاہم زیادتی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ اصل اعداد و شمار اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور کئی کیسز بدنامی کے ڈر کی وجہ سے ریکارڈ نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں: بھارت: ڈکیتی کے دوران 4 خواتین کا ’گینگ ریپ‘

پانچ سال قبل نئی دہلی میں طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے جان لیوا واقعے کے بعد بھارت میں جنسی تشدد کے حوالے سے قوانین کو سخت کیا گیا تھا، لیکن اس کے باجود بھی وہاں زیادتی کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔

چند روز قبل ریاست اتر پردیش میں شراب کے نشے میں دھت شخص کی جانب سے 100 سالہ معمر خاتون کو ’زیادتی‘ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ انتقال کر گئیں۔

معمر خاتون کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی کمزور اور ضعیف ہونے کے باعث بیمار تھیں اس لیے اپنا دفاع نہیں کرسکیں۔

بعد ازاں پولیس نے 35 سالہ ملزم انکِت پونیا کو گرفتار کرلیا جس کے خلاف مقدمے میں زیادتی، قتل اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔