لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں اسموگ کے حالیہ مسئلے، ماحولیاتی تبدیلی اور اسموگ کے خلاف نا مناسب اقدامات کرنے پر صوبائی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کےخلاف فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کی، درخواست گزار ولید اقبال نے ایک سال میں دوسری مرتبہ اسموگ کا مسئلہ شروع ہونے پر حکومت کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے مقدمے کی سماعت پر ادارہ تحفظ برائے ماحولیات کے افسر کو یاد دہانی کروائی کہ ’متعلقہ شعبے اسموگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں‘۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’اسموگ کے بحران کی وجہ سے لوگوں کی زندگی مفلوج ہوگئی ہے مگر حکومت ابھی تک سو رہی ہے‘۔

چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایئر کوالٹی انڈیکس کے افسران ابھی تک متاثرہ افراد کی تعداد پیش نہیں کرسکے۔

جسٹس شاہ کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو فضائی آلودگی کے حوالے سے درجہ بندی کرنا چاہیے مگر متعلقہ محکمہ تو ابھی تک اعداد و شمار بھی عدالت میں پیش نہیں کرسکا‘۔

مزید پڑھیں: پنجاب: دھند سے ہونے والے حادثات میں 10 افراد ہلاک

ادارہ برائے تحفظ ماحولیات کے افسر نے عدالت کو بتایا کیا کہ لاہور میں فضائی آلودگی کی درجہ بندی کے لیے 6 جدید مشینوں کی تنصیب کی گئی ہے، اگر ایئر کوالٹی کی ریٹنگ 430 تک پہنچ گئی تو اُس کے بعد ہنگامی اقدامات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

کیس کی عدالتی معاون بیرسٹر سارہ بلال نے عدالت کو بتایا کہ اسموگ کی وجہ سے شہریوں اور بالخصوص اسکول جانے والے بچوں کی صحت بری طرح سے متاثر ہورہی ہے۔

سوشل میڈیا پر چلنے والے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود فضائی آلودگی عالمی معیار کے برابر آچکی ہے مگر حکومت اس خطرناک مسئلے کو سنجیدہ نہیں لے رہی۔

چیف جسٹس نے حکومتی وکلا سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گزشتہ برس ہونے والی اسموگ سے کیا سیکھا اور رواں برس اس کو قابو کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟

یہ بھی پڑھیں: اسموگ کی لہر دسمبر تک جاری رہے گی:چیف میٹرولوجسٹ

چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے سیکریٹری ماحولیات کو عدالت میں تمام دستاویزات کے ہمراہ طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ مقدمے میں عدالت کو مدد فراہم کرنے والے جج ایڈووکیٹ رافع عالم خود بھی ماہر ماحولیات ہیں۔

دریں اثناء درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے والا ادارہ اسموگ کے حوالے سے اقدامات کے لیے تیار نہیں اور عدم توجہ کے باعث فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔


یہ خبر 14 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی