2018 میں افغان مہاجرین کی واپسی میں کمی کا امکان

اپ ڈیٹ نومبر 17 2017

ای میل

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ 2018 میں افغان پناہ گزینوں کی اپنے گھروں کو واپسی کاعمل ’کم‘ رہنے کا امکان ہے تاہم یو این ایچ آر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات پر افغان پناہ گزینوں کی جانب سے پڑھنے والے اثر کو کم نہیں کرسکتا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رجسٹر ہیں، جس میں سے وطن واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد 2016 میں تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار تھی جو 2017 کی پہلی تین سہ ماہی میں 50 ہزار تک رہی۔

یو این ایچ سی آر کو امید ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے جلد 2018 تک وفاق کے زیر انتظام علاقے (فاٹا) اور خیبر پختونخوا سے نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کے تحفظ کی اجازت مل جائے گی۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران میں افغان پناہ گزینوں کی حالت کا طویل مدتی حل ضروری ہے،جس میں رضا کارانہ طور پر ان پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی اور پناہ گزینوں کی کمیونٹی کی مدد کرنا شامل ہے۔

مزید پڑھیں: میانمار:مسلمان پناہ گزینوں کی تعداد 6 لاکھ کے قریب، اقوام متحدہ

انہوں نے کہا کہ 6 کروڑ 80 لاکھ افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے یو این ایچ سی آر نے ’اپیل 2019-2018‘ کا آغاز کیا ہے، جس کے ذریعے ان افراد کی مالی وسائل کے ذریعے مدد کی جائے گی، مذکورہ منصوبے سے متعلق 2018 اور 2019 کے لیے بجٹ تجویز کیا ہے، جو 2018 کے لیے 7ارب 508 کروڑ ڈالر جبکہ 2019 کے لیے 7 ارب 352 کروڑ ڈالر ہے۔

یو این ایچ سی آر نے کہا کہ 2017 کے درمیان میں 160 افغان پناہ گزینوں کے وفد کو پاکستان سے افغانستان کا دورہ کرایا گیا تھا تاکہ انہیں اس بات کا یقین دلایا جائے کہ ان کی واپسی پر ان کی رہائش ، کام، صحت اور تعلیم کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

2018 کے یو این ایچ سی آر پروگرام کے عالمی بجٹ کا زیادہ حصہ میانمار کے حالات کو دیکھ کر رکھا گیا ہے، تاہم پناہ گزینوں کا پروگرام یو این ایچ سی آر کے کاموں میں اہمیت کا حامل ہے جس کے لیے 32 کروڑ 9 لاکھ ڈالر مختص ہیں جو خطے کی ضروریات کا 67 فیصد ہے۔