نیوز چینلز نشریات بند، سوشل میڈیا بلاک کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2017

ای میل

اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد کی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے تمام پرائیویٹ ٹیلی ویژن (ٹی وی) نیوز چینلز کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکم پر پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پہلے تمام ٹی وی چینلز کو دھرنے کی کوریج نہ دینے کی ہدایت جاری کی تھیں بعدِ ازاں تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے فوری بعد ملک کے مختلف علاقوں میں نیوز چینلز بند ہونا شروع ہوگئے۔

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹفیکیشن کے مطابق تمام میڈیا ہاؤسز کو اپنے اسٹاف کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد دھرنا:مظاہرین کےخلاف 6گھنٹے سےآپریشن جاری،150 افراد گرفتار

پیمرا کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پوزیشنز کو ٹیلی ویژن پر براہِ راست نہ دکھایا جائے

ریگولیٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پر یہ ہدایت نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق تمام میڈیا ہاؤسز کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی پاسداری کرتے ہوئے براہِ راست کوریج بند کریں۔

سوشل میڈیا ویب سائیٹس بلاک

اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر بھی بلاک ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر موجود علاقے فیض آباد انٹر چینج پر 7 نومبر سے دھرنے پر بیٹھے مذہبی جماعتوں کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے آج صبح آپریشن کا آغاز کردیا گیا تھا۔

دھرنے کے شرکاء کو سیکیورٹی اہلکاروں نے چاروں اطراف سے گھیر کر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کی اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ پولیس کے مطابق اب تک متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

فیض آباد آپریشن کے بعد اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین کی حمایت میں ملک کے دیگر کئی شہروں میں بھی مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔