انسانی حقوق کمیشن کو لاپتہ افراد کی بڑھتی تعداد پر تشویش

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2017

ای میل

لاہور: کراچی میں بلوچ طالب علموں کی اچانک گمشدگی پر انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے طالب علموں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو ان کا ٹرائل کیا جائے ورنہ انہیں فوراً رہا کیا جائے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ کراچی میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ایک گھر پر چھاپے کے دوران بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (بی ایس او) آزاد اور بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چار رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا انسانی حقوق کی پالیسی جاری رکھنے کا عزم

اعلامیے میں بتایا گیا کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں ثناءاللہ خان عرف عزت بلوچ، حسن عرف نودان، نصیر احمد عرف چراغ اور رفیق بلوچ عرف کمبر شامل ہیں۔

ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ ایک اور طالب عمل صغیر احمد کو جامعہ کراچی کی کینٹین سے حراست میں لیا گیا جب کے اس سے قبل بلوچوں کے حقوق کے رہنماء اکبر علی گبول کو گلشن اقبال میں ان کے گھر سے آدھی رات کو حراست میں لیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ایچ آر سی پی پاکستانی شہریوں کو لاپتہ کیے جانے کے معاملے کی مذمت کرتی ہے خصوصی طور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے افراد اور طالب علموں کی گرفتاری کے حوالے سے، جنہیں اپنے حقوق کو اجاگر کرنے اور آگہی پھیلانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کے جرائم کی تفصیلات پیش کی جائیں: سپریم کورٹ

ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان طالب علموں میں سے کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کا جرم سامنے لاتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے بغیر کسی تاخیر کے عدالت میں پیش کیا جائے تاہم ان میں سے کسی نے اگر قانون نہیں توڑا تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ایچ آر سی پی نے اپنے اعلامیے میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں پر نظر رکھی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کہیں وہ شہریوں کے حقوق پامال نہ کریں اور جن شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ان کو انصاف دلایا جائے۔


یہ خبر 28 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی