امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ یہاں منتقل کرنے کا اعلان کردیا تاہم ان کا یہ اقدام بین الاقوامی اتفاق رائے کے خلاف تصور کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے دہائیوں پرانہ تنازع ایک مرتبہ دوبارہ شروع ہوگیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس شہر کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینی تنازع کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ اس شہر میں یہودی، مسیحی اور مسلمان آباد ہیں جن کا سیاسی و مذہبی تنازع کئی دہائیوں سے چلتا چلا آرہا ہے۔

بیت المقدس کس کا دارالخلافہ؟

یہودی بیت المقدس کو اپنا 3 ہزار سال پرانا دار الخلافہ تصور کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ آج دنیا بھر میں پائے جانے والے یہودیوں کے آباؤ اجداد یہیں سے آئے تھے۔

قدیم زمانے میں دو یہودیوں کی عبادت گاہوں کے گرانے اور انہیں اپنی زمین سے نکالے جانے کے بعد سے یہودی اپنے آبائی مقدس مقام پر منتقل ہونے کے لیے بے تاب تھے۔

تاریخ کے مطابق ڈیوڈ بادشاہ نے 1 ہزار سال قبل مسیح بیت المقدس کو متحدہ اسرائیل کا دارالخلافہ بنایا تھا۔

بیت المقدس کی جنوبی دیوار 70 قبل مسیح میں رومن کی جانب سے گرائے جانے والے یہودیوں کی عبادت گاہ کے باقیات میں سے ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کامقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

بیت المقدس میں 8 لاکھ 82 ہزار فلسطینی آباد ہیں جو مشرقی بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالخلافہ قرار دیتے ہیں۔

اس شہر میں کئی بڑے مذہبی مقامات موجود ہیں جن میں مسلمانوں کا تیسرا اہم مقدس مقام مسجد الاقصیٰ اور قبۃ الصخرۃ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ چند سالوں میں فلسطینی عوام فلسطین کے صدر محمود عباس الفتاح اور اسلامی تحریک حماس کے دو گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔

اس تقسیم کے بعد بیت المقدس مذہبی و قومی بنیادوں پر ریلیاں نکالنے کی سب سے طاقت ور ترین جگہ کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔

اس شہر میں مسیحیوں کے بھی مقدس مقامات قائم ہیں جن میں کلیسا اور مقبرہ مقدس شامل ہے۔

تنازع کا شہر

اقوام متحدہ کے 1947 کے منصوبے میں اس وقت کے اس علاقے پر قابض برطانیہ نے فلسطین کو تین علیحدہ ریاستوں میں تقسیم کیا تھا جن میں ایک یہودی ریاست، ایک عرب، اور ایک علیحدہ محصور علاقہ جس میں بیت المقدس بھی شامل ہے کو اقوام متحدہ کے قبضے میں بنایا گیا تھا۔

اس پیشکش کو یہودی رہنماؤں نے قبول جبکہ عرب رہنماؤں کی جانب سے مسترد کردیا گیا تھا۔

1948 میں برطانیہ کے اس علاقے سے جانے کے بعد یہودیوں نے ایک علیحدہ ریاست اسرائیل کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عرب ریاستوں اور فلسطینیوں نے جنگ کا آغاز کردیا تھا۔

جنگ کے اختتام میں مشرقی بیت المقدس کو اردن کے سپرد کردیا گیا تھا جبکہ یہودیوں کی نئی ریاست نے اپنا دارالخلافہ مغرب میں قائم کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'ایران بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کو برداشت نہیں کرے گا'

1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران دونوں ریاست کی سرحدوں کو خاردار تاریں، مٹی کے بورے اور مشین گنوں کو تعینات کرکے الگ کردیا گیا تھا۔

اس جنگ میں اسرائیل نے مشرقی حصے پر قبضہ جماتے ہوئے اسے بند کردیا تھا۔

1980 میں اسرائیل نے اس حصے کو اپنا ہمیشہ کے لیے اور فلسطین کے ساتھ مشترکہ دار الخلافہ قرار دیا تھا جسے بین الاقوامی کمیونٹی نے مسترد کیا تھا۔

سفارتخانوں کے بغیر دار الخلافہ

جس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو یہاں 13 ممالک کے سفات خانے قائم تھے، جن میں بولیویا، چلی، کولمبیا۔ کوسٹا ریکا۔ ڈومینیکن ریپبلک، اکواڈور، ال سلواڈور، گواتی مالا، ہیتی، نیدر لینڈ، پاناما، یورو گائے اور وینیز ویلا شامل ہیں۔

بعد ازاں ان سب نے ممالک نے اپنے سفارت خانے تل ابیب منتقل کردیئے۔

تاہم 1984 میں کوسٹا ریکا اور ال سلواڈور نے اپنا سفارتخانہ واپس اس شہر میں قائم کیا تھا بعد ازاں 2006 میں اسے واپس تل ابیب میں منتقل کردیا گیا۔

مقدس شہر پر امریکی پالیسی

1995 میں امریکی کانگریس نے ایک ایکٹ پاس کیا تھا جس کے مطابق بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا جانا تھا اور امریکی سفارت خانے کو 31 مئی 1999 تک بیت المقدس میں منتقل کیا جانا تھا۔

تاہم یہ عمل متنازع ہونے کے باعث جب سے اب تک آنے والے امریکا کے منتخب صدور نے اس کا راستہ روکے رکھا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ ملتوی

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے اور اس شہر کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ بیت المقدس کا تنازع پر دونوں جانب سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا اب تک کی امریکا کی پالیسی تھی۔


یہ خبر 7 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی