صوبہ سندھ کے علاقے ٹھٹھہ میں سمندر سے نزدیک زائرین سے بھری کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوگئے۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ ناصر بیگ کا کہنا تھا کہ اس بد قسمت کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 60 افراد سوار تھے جو ٹھٹھہ کے قریبی علاقے بوھارا میں دریا پار پیر پٹھائی کے مزار پر حاضری کے لیے جارہے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کاموں کا آغاز کیا اور اب تک دریا سے 23 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور 20 افراد کو بحفاظت دریا سے نکالا جاچکا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشتی میں گنجائش سے زائد افراد سوار تھے جس کی وجہ سے کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔

مزید پڑھیں: لاڑکانہ کشتی حادثہ: 6 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں،7 تاحال لاپتہ

ایک این جی او پاک فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کشتی میں 100 سے زائد افراد سوار تھے جبکہ یہ کشتی جیٹی پر اپنا توازن کھو جانے کی وجہ سے الٹ گئی۔

نیوی اور ریسکیو اداروں کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں۔

کمشنر حیدرآباد کا کہنا تھا کہ ریسکیو کے عمل میں حصہ لینے کے لیے ٹھٹھہ اور سجاول کے اضلاع سے ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز منگوائی گئیں ہیں جبکہ لاشوں کو میر پور ساکڑو کے تعلقہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے راوی میں کشتی ڈوبنے سے متعدد افراد لاپتہ

ادھر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کشتی ڈوبنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر حیدر آباد کو ریسکیو کا کام تیز کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ریسکیو اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اندھیرا ہونے سے پہلے ریسکیو کا کام مکمل کیا جائے۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں سندھ کے شمالی ضلع لاڑکانہ سے قریب دریائے سندھ میں بلہڑیجی کے مقام پر کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 10 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کشتی میں کم سے کم 35 افراد سوار تھے، جن میں سے 17 افراد کو فوری طور پر ریسکیو کرلیا گیا تھا، جب کہ کچھ افراد اپنی مدد آپ کے تحت پانی سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔