بچپن کی آبیاری کرنے والے کو ہم کاندھا بھی نہ دے سکے

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2017

ای میل

یہ 1990ء کی دہائی کے رومان انگیز بچپنے کی یادیں ہیں۔ صوتی کیسٹوں پر کہانیاں سننے کے بعد اب شاید خود بھی پڑھنا سیکھ لیا تھا، تب ہی جمعے کو مسجد کے باہر سے بچوں کا ایک رسالہ خریدنا معمولات کا حصہ ہونے لگا، جو ایک مخصوص نکتۂ نظر کا تھا، جس پر ہماری امّی نے گرفت کی اور اُس پر پابندی لگ گئی۔ ہم نے بہت ضد کی اور کہا اِس اقدام کی وجہ بتائی جائے، تو ہمیں یوں مطمئن کیا کہ ’آپ ابھی چھوٹے ہیں اور یہ رسالہ ذرا بڑے بچوں کے لیے ہے۔‘

یہی وہ موقع تھا، جب متبادل کے طور پر ’ہمدرد نونہال‘ کا بے قاعدہ سلسلہ باقاعدہ ہوا، اور لاکھوں بچوں کی طرح یہ ہماری زندگی کا بھی لازمی جزو بن گیا، اور ہم اِس کے ایسے اسیر ہوئے کہ پھر اِس پائے کا کوئی رسالہ نہ پایا۔ پھر یہی ہماری فرصت کا سب سے بڑا مصرف بنا۔

نونہال کے تازہ شمارے کے انتظار میں پورا مہینہ کیسے گزرتا تھا، یہ صرف ہم ہی جانتے تھے۔ وہ 30 دن 30 برس نہ سہی، مگر آج کے 30 ہفتوں جتنے طویل ضرور لگتے تھے۔ اِس میں کبھی تعلیمی سرگرمیاں مخل ہوتیں، تو یہ صبر آزمائی کسی مے نوش کو جام سے پرے کرنے جیسی ہوتی۔ خدا خدا کرکے امتحانات کا ’امتحان‘ گزرتا اور آخری پرچہ دے کر آتے ہی پہلی دوڑ تازہ نونہال لانے کی ہوتی۔ عالم یہ تھا کہ 120 صفحات کا رسالہ ناکافی معلوم ہوتا، کیونکہ ایک سے دو دن میں ہی پورا رسالہ چٹ ہوجاتا۔ ہمیں کہا بھی جاتا کہ تھوڑا تھوڑا روز پڑھا کرو، مگر ایک مہینے انتظار کے بعد کہاں ٹھہرا جاتا تھا۔

پھر ہم نونہال نہ رہے، لیکن ’نونہال‘ سے تعلق ویسا ہی رہا۔ اب خود قلم آرائی کا شوق چرانے لگا۔ ہر بچے کی طرح اپنا نام چھپا ہوا دیکھنے کی خواہش میں پہلے بغلی راستہ اپنایا، یعنی کوئی اچھا قول، شعر، واقعہ یا لطیفہ بھیجنا شروع کیا، جس کے مرسل میں ہمارا نام ہوتا۔ پھر اپنی کسی تحریر کی خواہش انگڑائی لینے لگی، مگر مسعود احمد برکاتی کے رسالے میں چھپنا کوئی بچوں کا کھیل نہ تھا۔

مزید پڑھیے: ہمدرد نونہال کے مدیر مسعود برکاتی انتقال کرگئے

ہم نے نونہال کے لیے خودی اور خودداری کے مرکزی خیال لیے عرق ریزی سے بہت سے مضامین لکھنے شروع کیے۔ کئی بار لکھ لکھ کر اُسے ٹھیک کرتے، جملوں کی تقدیم و تاخیر بہتر کرتے اور پھر تحریر کی شرائط کے مطابق حاشیہ اور ایک سطر چھوڑ کر صفحے کے ایک طرف لکھ کر حتمی شکل دیتے۔ اپنے پاس نقل رکھنے کے واسطے کاربن پیپر لگاتے، جس کے بعد ہم اُس لفافے میں کوئی شعر یا قول وغیرہ کا رقعہ بھی ڈال دیتے کہ اُس کی اشاعت سے یہ خبر ہو کہ تحریر منزل تک پہنچی بھی یا نہیں؟ اِس کے بعد ہر ماہ بے چینی سے رسالہ ٹٹولتے کہ کہیں ہماری تحریر تو نہیں چھپی؟ کوئی دو برس کی مسلسل محنت کے بعد ہماری تحریر ’نونہال‘ میں ننھے لکھنے والوں کے گوشے ’نونہال ادیب‘ میں جگہ پاسکی، جس کے بعد مزید دو تحریریں بھی اِنہی صفحات کی زینت بنیں، جب کہ لگاتار دو مرتبہ کے ’خاص نمبر‘ میں مضامین مرکزی فہرست میں جگہ پانے میں کامیاب ہوئے، جس کی باقاعدہ ادائیگی کی گئی۔

2006ء میں پہلی تحریر شایع ہوئی اور اُسی ماہ ہمیں پہلی بار مسعود احمد برکاتی سے بالمشافہ ملاقات کا موقع ملا۔ یہ سن شعور کی ابتداء تھی، جب کچھ کر گزرنے کا جذبہ شدید تھا، چناں چہ اُس ملاقات کا مقصد ’نونہال‘ میں انگریزی کے غلبے اور دیگر اغلاط کی جانب توجہ دلانا تھا۔ بہت سی نشان دہی پر وہ حیران بھی ہوئے اور کچھ الفاظ کی انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں اصلاح بھی فرمائی، بالخصوص ’ت‘ سے ’توتا‘ لکھنے کی سند اُنہوں نے باقاعدہ لغت سے پیش کی۔ دفتر میں میز پر اُن کا کام بھی موجود ہوتا، ملاقات کے لیے لوگ بھی آتے رہتے، مگر اُنہوں نے اپنے اِس قاری کو بھی اہمیت دی۔ اُن کا بس یہ حکم ہوتا کہ پہلے وقت لے لیا کیجیے، مگر اِس حکم کے باوجود اگر ہم کبھی بنا وقت لیے پہنچتے تب بھی اُنہوں نے ملاقات سے انکار کرنے کے بجائے ہمیں خوش آمدید کہا۔

’نونہال‘ کے نام سے اگر حکیم محمد سعید کے ساتھ کسی اور شخصیت کا تذکرہ ہے، تو وہ مسعود احمد برکاتی ہی ہیں۔ یہ سوچ اور منصوبہ حکیم سعید کا ضرور تھا، لیکن اِسے کام یابی سے ہم کنار کرنے والے مسعود احمد برکاتی ہی تھے اور اُن کا معاملہ بھی عجیب رہا۔ رسالے کی فہرست میں ’پہلی بات‘ کے زیرِ عنوان اُن کا اداریہ موجود ہونے کے باوجود باقی رسالے میں کہیں اُن کی موجودگی نمایاں نہ ہوتی۔ اُن کی تصویر بھی شاذ و نادر ہی کبھی نونہال کی زینت بنتی، یہاں تک کہ آخری صفحات میں نونہالوں کے خطوط پر مشتمل مستقل سلسلے ’آدھی ملاقات‘ میں بھی یہ تذکرہ نہ ہوتا تھا کہ بچوں کی اِن باتوں کے جواب دیتا کون ہے؟ تب ہی ایک مرتبہ کسی بچے نہ اِس جانب توجہ مبذول کروائی، جس کے جواب میں اُنہیں بتانا پڑا کہ یہاں بھی اُن کا قلم بولتا ہے۔

10 دسمبر کو وہ زندگی کی لگ بھگ 86 بہاریں دیکھ کر رخصت ہوگئے۔ اُنہوں نے ریکارڈ 60 برس ’ہمدرد نونہال‘ کی ادارت کی۔ بچوں کے ادب میں اُن کی اِس طویل خدمت کا کوئی ثانی دکھائی نہیں دیتا۔ وہ یہ جاننے کے باوجود شاکر تھے کہ بچوں کا ادب ایک ایسی خدمت ہے، جسے سراہا نہیں جاتا۔ وہ چاہتے تو اپنی ادارت یا قلم کاری کو عام ادب سے منسلک کرتے اور بہت دھوم دھام سے اُن کی خدمات کا اعتراف کرلیا جاتا۔

حکومت کی جانب سے مختلف شخصیات کو نوازنے کی خاطر تمغہ حسن کارکردگی، نشان امتیاز، ہلال امتیاز اور نہ جانے بھانت بھانت کے کون کون سے اعزازات دیے جاتے ہیں، مگر افسوس کسی تمغے کو یہ ’اعزاز‘ نہ مل سکا کہ وہ مسعود احمد برکاتی پر نچھاور ہوکر اعتبار کی منزل پاتا۔

محض ایک سے ڈیڑھ برس قبل ہی وہ ’نونہال‘ کی ادارت سے سبکدوش ہوئے۔ انہوں نے بلا مبالغہ کروڑوں بچوں کی تربیت میں براہِ راست حصہ لیا، جن میں سے ہزاروں افراد آج اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں ہیں۔ بالخصوص لکھنے لکھانے والوں نے تو براہِ راست اُن کی اِس معیاری خدمت سے فیض اُٹھایا، مگر میں نے آج کے اخبار میں اُن کے جنازے کی تصویر دیکھی، فقط چند آدمی اُن کے جسد کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں اپنے آپ سے نظریں چرانے لگا۔ میں لکھتا ہوں تو یہ لفظ اُٹھ اُٹھ کر مجھے کچوکے لگاتے ہیں کہ جن کے ترتیب دیے لفظوں کو پڑھ پڑھ کر آج تم کسی جو کے ہوگئے، آج اُن کے جنازے تک پر نہ گئے۔ پھر کس منہ سے سماج کی بے حسی کا نوحہ کہتے ہو؟ تم اُنہیں دے بھی کیا سکتے تھے، ایک کاندھا تک تو دے نہ سکے۔ کس منہ سے آج سرکار کو بے اعتنائی کے طعنے دیتے ہو اور میں ایک لا متناہی شرمندگی کے ساتھ اپنے قلم کو رکھ کر نظریں جھکا لیتا ہوں...!